LIVE
Loading Breaking News...

آسٹریلیا کا امیگریشن کریک ڈاؤن، ویزا اوور سٹے پر سیاحوں کی گرفتاری کا اعلان

News Image
آسٹریلیا نے امیگریشن نظام کو سخت بناتے ہوئے ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود ملک میں مقیم سیاحوں کو حراست میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئی پالیسی کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کی روک تھام اور امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرانا ہے۔
آسٹریلیا کی حکومت نے ملک میں امیگریشن کے نظام کو مزید سخت اور ضابطے کے تحت لانے کے لیے ایک نئے اور وسیع کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں حکام نے واضح کیا ہے کہ جو غیر ملکی سیاح اپنے ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود آسٹریلیا میں مقیم رہیں گے، انہیں حراست میں لے کر ملک بدر کیا جائے گا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک کی سرحدوں کو محفوظ بنانا اور غیر قانونی تارکین وطن کے بڑھتے ہوئے رجحان کو سختی کے ساتھ روکنا ہے۔ آسٹریلوی حکومت کا ماننا ہے کہ امیگریشن کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حالیہ مہینوں میں آسٹریلیا نے امیگریشن کے حوالے سے کئی اہم فیصلے کیے ہیں جن میں بین الاقوامی طلباء اور بیک پیکرز کو نشانہ بنانے والے اقدامات بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ حکومت غیر ملکی طلباء کے لیے قوانین کو سخت کر رہی ہے تاکہ ملک میں آبادی اور ہاؤسنگ مارکیٹ پر پڑنے والے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ نئی پالیسیوں کے تحت طلباء اور سیاحوں دونوں کے لیے ویزا کے حصول اور ان کے قیام کے دوران شرائط کو انتہائی پیچیدہ بنایا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جو افراد قانون کا احترام نہیں کریں گے اور ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی غیر قانونی طور پر قیام جاری رکھیں گے، ان کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ دوسری جانب، امیگریشن کے اس سخت کریک ڈاؤن پر مختلف حلقوں کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے سیاحت اور تعلیمی شعبے کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلے ملکی مفاد اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ آسٹریلوی محکمہ داخلہ نے تمام متعلقہ افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ویزا کی مدت کا خاص خیال رکھیں اور وقت پر ملک چھوڑ دیں یا اپنے ویزا میں قانونی طریقے سے توسیع کروائیں۔