LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور جاسوسی: نیواڈا ڈیٹا سینٹرز کا غزہ میں کردار

News Image
اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف نگرانی اور حملوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز نیواڈا اور دیگر مقامات کے طاقتور ڈیٹا سینٹرز کی مدد سے چلائی جا رہی ہیں۔
فلسطینی علاقوں بالخصوص غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کے حوالے سے تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ اسرائیلی فوج اور دفاعی ادارے ان جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال اہداف کے تعین اور نگرانی کے لیے کر رہے ہیں، جسے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس قسم کے جدید نگرانی کے نظام کے پیچھے صرف مقامی انفراسٹرکچر نہیں بلکہ امریکہ کے مختلف حصوں میں قائم طاقتور ڈیٹا سینٹرز کا بھی ہاتھ ہے۔ ریاست نیواڈا اور دیگر مقامات پر موجود یہ ڈیٹا سینٹرز اتنی بڑی مقدار میں ڈیٹا پراسیس کرتے ہیں جو اس طرح کے خودکار عسکری نظاموں کو چلانے کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ ڈیٹا سینٹرز سے حاصل ہونے والی کمپیوٹنگ پاور کے ذریعے بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل نگرانی کی جاتی ہے، جس کے اثرات اب بین الاقوامی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں جو عام صارفین کے لیے خدمات فراہم کرتی ہیں، ان کے پس پردہ عسکری اداروں کے ساتھ روابط اور ڈیٹا کا تبادلہ ایک بڑا اخلاقی سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے اخلاقی استعمال اور انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نیواڈا کے ڈیٹا سینٹرز سے لے کر غزہ کی گلیوں تک پھیلا ہوا یہ ڈیجیٹل جال عام انسانی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے، جس کے خلاف فوری عالمی ضابطہ اخلاق کی ضرورت ہے۔