World
پٹنی برہم واقعہ: نکولس برینڈرم کی بہنوں کا موقف سامنے آ گیا
برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں نکولس برینڈرم کی بہنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا بھائی اس شخص سے بالکل مختلف ہے جسے پولیس تلاش کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پٹنی پل پر پیش آنے والے افسوسناک واقعے سے ان کے بھائی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
لندن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، پٹنی پل پر پیش آنے والے مشہور واقعہ کے مبینہ ملزم نکولس برینڈرم کی بہنوں نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو میں اپنے بھائی کی بے گناہی کے حق میں کئی اہم دلائل پیش کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا بھائی کسی بھی طرح اس حلیے سے میچ نہیں کرتا جو پولیس یا عینی شاہدین کی طرف سے بتایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ واقعہ ایک پل پر پیش آیا تھا جہاں ایک خاتون کو مبینہ طور پر بس کے آگے دھکا دیا گیا تھا جس کی فوٹیج نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی تھی۔
نکولس کی بہنوں نے انٹرویو کے دوران تفصیلی وجوہات بیان کیں کہ کیوں ان کا بھائی وہ جاگر نہیں ہو سکتا جس کی تلاش قانون نافذ کرنے والے ادارے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جسمانی خدوخال اور واقعے کے وقت کی مصدقہ مصروفیات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ نکولس کا اس واقعے سے دور دور تک کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے۔ انہوں نے پولیس کی تفتیش پر کچھ سوالات اٹھائے بغیر اس بات پر زور دیا کہ حقائق کو درست طریقے سے جانچا جانا چاہیے تاکہ کسی بے گناہ شخص کی ساکھ کو نقصان نہ پہنچے۔
پولیس اور تفتیشی اداروں کی جانب سے اس معاملے میں مسلسل تحقیقات جاری ہیں اور عوامی سطح پر بھی اس واقعے پر شدید ردعمل دیکھا گیا تھا۔ عینی شاہدین کے بیانات اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے ملزم کی تلاش کی جا رہی ہے تاہم خاندان کی جانب سے سامنے آنے والے اس نئے مؤقف نے اس کیس میں ایک نیا موڑ دے دیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس انٹرویو کے بعد تفتیشی عمل میں مزید گہرائی آئے گی اور پولیس تمام پہلوؤں کا از سر نو جائزہ لے گی۔
خاندان کے افراد نے میڈیا کے توسط سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ خبریں پھیلانے سے گریز کیا جائے کیونکہ اس سے نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ زیر تفتیش افراد کے عزیز و اقارب کو بھی ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ قانون کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے تاکہ سچائی سب کے سامنے آ سکے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔