LIVE
Loading Breaking News...

جگتار سنگھ جوہل کو بھارت میں ضمانت مل گئی، اہل خانہ کی تصدیق

News Image
بھارت میں سال 2017 سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت زیر حراست سکاٹش سکھ کارکن جگتار سنگھ جوہل کے اہل خانہ نے ان کی ضمانت منظور کیے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔ جگتار سنگھ جوہل کا تعلق سکاٹ لینڈ کے علاقے ڈمبرٹن سے ہے اور وہ طویل عرصے سے بھارتی جیل میں قید تھے۔
بھارت میں سن 2017 سے دہشت گردی کے مبینہ جرائم کے سلسلے میں حراست میں موجود سکاٹش سکھ کارکن جگتار سنگھ جوہل کے اہل خانہ نے اعلان کیا ہے کہ انہیں ضمانت دے دی گئی ہے۔ سکاٹ لینڈ کے علاقے ڈمبرٹن سے تعلق رکھنے والے جگتار سنگھ جوہل کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ اپنے ولیمے کی تقریبات کے سلسلے میں بھارت کے دورے پر موجود تھے۔ ان کی گرفتاری اور طویل حراست کا معاملہ برطانوی سیاست میں بھی کافی زیر بحث رہا ہے اور ان کے حامیوں کی جانب سے مسلسل ان کی رہائی یا منصفانہ ٹرائل کے مطالبات کیے جاتے رہے ہیں۔ جگتار سنگھ کے خاندان کا کہنا ہے کہ ضمانت ملنا ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم قانونی کارروائی اور مقدمے کی تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی ماضی میں ان کی حراست کے حالات اور طویل عرصے تک ٹرائل کے بغیر جیل میں رکھنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ برطانوی حکومت کی جانب سے بھی اس معاملے پر بھارتی حکام کے ساتھ سفارتی سطح پر بات چیت کی جاتی رہی ہے۔ اب جب کہ ضمانت کی خبر سامنے آئی ہے، تو خاندان اور ان کے وکیل امید کر رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ان کی قانونی مشکلات میں کمی واقع ہو گی اور وہ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد اپنے وطن واپس سکاٹ لینڈ لوٹ سکیں گے۔ اس پورے کیس نے دنیا بھر میں سکھ کمیونٹی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی تھی جو جگتار سنگھ کی سلامتی اور رہائی کے لیے متحرک تھے۔