LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں مقیم افغان میڈیکل طالبات کا مستقبل خطرے میں

News Image
پاکستان سے افغان شہریوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی کا سلسلہ جاری ہے جس سے وہاں زیر تعلیم طالبات شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان طالبات کو خدشہ ہے کہ انہیں بھی تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس افغانستان جانا پڑ سکتا ہے۔
سنہ دو ہزار تئیس کے بعد سے پاکستان سے لاکھوں افغان باشندوں کی بے دخلی کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک بیس لاکھ سے زائد افغان شہری اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی اور بے دخلی کے عمل نے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم افغان نوجوانوں بالخصوص میڈیکل کی طالبات کے مستقبل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ان طالبات کا کہنا ہے کہ وہ شدید ذہنی دباؤ اور مکمل مایوسی کی کیفیت سے گزر رہی ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ان کی برسوں کی محنت رائیگاں چلی جائے گی۔ افغانستان میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر عائد پابندیوں کے بعد پاکستان کی یونیورسٹیز اور میڈیکل کالجز ان طالبات کے لیے امید کی آخری کرن تھے۔ تاہم اب ویزا کے مسائل، طویل المدتی ریذیڈنسی کی عدم دستیابی اور حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ان طالبات کے لیے پاکستان میں مقیم رہنا اور اپنی تعلیم مکمل کرنا تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ متاثرہ طالبات کا کہنا ہے کہ اگر انہیں زبردستی واپس بھیجا گیا تو وہاں ان کے پاس تعلیم جاری رکھنے کا کوئی قانونی یا عملی راستہ نہیں بچے گا، جس سے ان کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور تعلیمی ماہرین نے بھی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان طالبات کے تعلیمی کیریئر کو بچانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر اور پاکستانی حکام کی جانب سے خصوصی اقدامات اٹھائے جانے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ پاکستان سکیورٹی اور قانونی تقاضوں کے تحت افغان شہریوں کو واپس بھیج رہا ہے، لیکن تعلیم حاصل کرنے والی ان بچیوں کے معاملے میں نرمی یا متبادل حل تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ان کی زندگیاں تباہ ہونے سے بچ سکیں۔