LIVE
Loading Breaking News...

نیپال سیلاب: امداد کے نام پر انفلوئنسرز کی جانب سے استحصال کا انکشاف

News Image
نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے دوران سوشل میڈیا کے کچھ نام نہاد انفلوئنسرز پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنے فالوورز بڑھانے کے لیے متاثرین کی مجبوری کا استحصال کر رہے ہیں۔ یہ افراد امدادی سرگرمیوں کی آڑ میں ویڈیوز بنا کر انٹرنیٹ پر شہرت اور ویوز حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔
نیپال میں حالیہ دنوں آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے، جس سے ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے کٹھن وقت میں جہاں پوری دنیا سے انسانی ہمدردی کے تحت امداد اور تعاون فراہم کیا جا رہا ہے، وہیں سوشل میڈیا پر سرگرم کچھ نام نہاد 'انفلوئنسرز' کا مکروہ چہرہ بھی سامنے آیا ہے۔ ان افراد پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ مصیبت زدہ انسانوں کی مدد کرنے کے بجائے اپنی سوشل میڈیا ریٹنگ اور فالوورز میں اضافہ کرنے کے لیے ان کی مجبوریوں کا کھل کر استحصال کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ افراد سیلاب سے متاثرہ دور دراز علاقوں کا دورہ کرتے ہیں جہاں وہ امدادی سامان تقسیم کرنے کا ناٹک رچاتے ہیں۔ اس دوران وہ متاثرہ اور بے سہارا لوگوں کے ساتھ انتہائی نامناسب انداز میں ویڈیوز بناتے ہیں تاکہ انہیں انٹرنیٹ پر وائرل کیا جا سکے۔ ان ویڈیوز کا بنیادی مقصد انسانی ہمدردی نہیں بلکہ سوشل میڈیا الگورتھم کی مدد سے زیادہ سے زیادہ لائکس، شیئرز اور ویوز سمیٹنا ہوتا ہے۔ متاثرہ افراد، جو پہلے ہی پی اپنوں کے کھونے اور بے گھر ہونے کے صدمے سے گزر رہے ہوتے ہیں، اس نام نہاد ڈیجیٹل تماشے کا شکار بن جاتے ہیں۔ مقامیت اور سول سوسائٹی کے ارکان کی جانب سے اس عمل کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی غیر اخلاقی سرگرمیاں نہ صرف متاثرہ افراد کی خودداری کو مجروح کرتی ہیں بلکہ حقیقی فلاحی کاموں اور امدادی اداروں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین بھی اس رجحان کے خلاف کھل کر آواز اٹھا رہے ہیں اور ایسے مواد کو رپورٹ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جو انسانی وقار کو پامال کرتا ہو۔ حکام اور ڈیجیٹل میڈیا کے ماہرین نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ بحران کی اس گھڑی میں امداد کا طریقہ کار باوقار ہونا چاہیے۔ انسانی ہمدردی کے کاموں کو پروپیگنڈا یا ذاتی مقبولیت کا ذریعہ بنانا اخلاقی اور قانونی طور پر قابلِ مذمت عمل ہے۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر سوشل میڈیا کے اخلاقی استعمال اور ڈیجیٹل دور میں انسانی ہمدردی کے تقاضوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے، جس کے تدارک کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔