LIVE
Loading Breaking News...

داعش کا مصنوعی ذہانت اور گروک کا بم سازی کے لیے استعمال

News Image
الجزیرہ کے ساتھ شیئر کیے گئے شواہد سے انکشاف ہوا ہے کہ داعش کے حامی مصنوعی ذہانت کے حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ عسکریت پسند گروپ ٹیکنالوجی کے ان جدید ٹولز کا استعمال بم سازی اور تخریب کاری کی تربیت کے لیے کر رہے ہیں۔
حال ہی میں سامنے آنے والے سیکیورٹی شواہد سے انکشاف ہوا ہے کہ شدت پسند تنظیم داعش کے حامی جدید ترین مصنوعی ذہانت (AI) کے نظام کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ الجزیرہ کے ساتھ خصوصی طور پر شیئر کی گئی معلومات کے مطابق، عسکریت پسند بڑے ٹیک اداروں کے تیار کردہ اے آئی ماڈلز، خاص طور پر چیٹ بوٹس کے حفاظتی ضوابط کو چکما دینے کے نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں تاکہ وہ بم سازی اور دیگر پرتشدد کارروائیوں کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔ رپورٹ کے مطابق، یہ عناصر مختلف اے آئی سسٹمز کی سیکیورٹی کی پابندیوں کو عبور کرنے کے لیے متبادل الفاظ اور کوڈز کا سہارا لے رہے ہیں۔ اگرچہ معروف ٹیک کمپنیاں اور مصنوعی ذہانت کے ساز ادارے اپنے پلیٹ فارمز پر سخت حفاظتی اصول نافذ کرتے ہیں تاکہ خطرناک مواد اور ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق معلومات کی فراہمی کو روکا جا سکے، لیکن اس کے باوجود مجرمانہ ذہن اب بھی خامیوں سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ ماہرینِ ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی اینالسٹس نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت زیادہ طاقتور اور عام ہوتی جا رہی ہے، ویسے ہی اس کے غلط استعمال کے خطرات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ عسکریت پسند تنظیمیں پروپیگنڈا پھیلانے اور تکنیکی مہارت حاصل کرنے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا محتاط انداز میں استعمال کر رہی ہیں جو کہ عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ اس انکشاف کے بعد ٹیک انڈسٹری پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اپنے اے آئی سسٹمز کی نگرانی کے نظام کو مزید سخت کریں اور ایسے الگورتھم تیار کریں جو خطرناک سوالات اور اشاروں کو فوری طور پر شناخت کر کے بلاک کر سکیں۔ دنیا بھر کی حکومتیں اور ادارے اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کس طرح بین الاقوامی ضابطے اور قوانین وضع کیے جائیں تاکہ ٹیکنالوجی انسانیت کی بہتری کے لیے استعمال ہو نہ کہ تباہی کے لیے۔