World
اسرائیلی انتخابات اور مغربی پابندیاں: ووٹرز کا ردعمل
مغربی ممالک کی جانب سے عائد کردہ نئی پابندیوں نے بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کی تنہائی کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں ہونے والے انتخابات سے پہلے یہ اقدامات اسرائیلی ووٹرز کے رویے پر کوئی اثر نہیں ڈالیں گے۔
حالیہ دنوں میں مغربی ممالک کی جانب سے اسرائیل پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں نے بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کی بڑھتی ہوئی سیاسی تنہائی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ دنیا بھر میں ان پابندیوں کو اہم سفارتی اور معاشی دباؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جن کا مقصد اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونا ہے۔ تاہم، زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں کیونکہ عام اسرائیلی ووٹرز ان اقدامات کو صریح جھوٹ اور سیاسی پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کر رہے ہیں۔
ملکی سطح پر عوامی جذبات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مغربی دباؤ اسرائیلی عوام کو متاثر کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ بہت سے شہریوں کا ماننا ہے کہ یہ بین الاقوامی پابندیوں اور تنقید کا مقصد ملکی خود مختاری کو کمزور کرنا ہے، جس کی وجہ سے عوام میں حکومت کے خلاف ہونے کے بجائے مزید یکجہتی پیدا ہو رہی ہے۔ ووٹرز کا یہ رویہ اس بات کا غماز ہے کہ بیرونی دباؤ اندرونی سیاسی مباحث اور انتخابی رجحانات کا رخ موڑنے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے۔
ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں شیڈول آئندہ انتخابات پر ان مغربی پابندیوں کا کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ روایتی انتخابی مد و جزر میں اندرونی سکیورٹی، معیشت اور علاقائی چیلنجز کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے، اور موجودہ حالات میں بھی یہی مسائل ووٹرز کی اولین ترجیح ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید کے باوجود، انتخابی اکھاڑے میں ووٹرز کی ترجیحات میں کسی بڑی تبدیلی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔