World
یمن میں جنگ اور مہنگائی، ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے عوام کی مشکلات میں اضافہ
یمن کے دارالحکومت صنعا میں چار سال کے دوران پہلی بار ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے جس سے خوراک اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ اس بحران کی وجہ سے عام خاندانوں کے لیے روزمرہ کی زندگی گزارنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
یمن میں جاری طویل خانہ جنگی اور خطے کی کشیدہ صورتحال کے منفی اثرات اب عوام کی روزمرہ زندگی پر شدید تر ہوتے جا رہے ہیں۔ دارالحکومت صنعا اور اس کے اطراف کے علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کو خوراک، ادویات اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ صورتحال اس وقت مزید ابتر ہو گئی جب حکام نے گزشتہ چار سال کے دوران پہلی بار ایندھن کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرنے کا اعلان کیا۔ ایندھن کی قیمتیں بڑھنے کا براہ راست اثر اشیائے خوردونوش اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں پر پڑا ہے، جو پہلے ہی جنگ زدہ معیشت کے بوجھ تلے دبے ہوئے شہریوں کے لیے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ یمن میں درآمدی سلسلہ بری طرح متاثر ہونے اور اندرونی راستوں پر پابندیوں کی وجہ سے پہلے ہی اشیاء کی قلت کا سامنا تھا۔ اب ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ٹرانسپورٹ کے نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، جس کے نتیجے میں سبزیوں، آٹے اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ عام شہریوں کے لیے اپنے بچوں کا پیٹ بھرنا اور روزگار کے لیے سفر کرنا بھی ایک روزانہ کا عذاب بن چکا ہے۔ بین الاقوامی امدادی تنظیمیں پہلے ہی خبردار کر چکی ہیں کہ یمن میں انسانی بحران سنگین شکل اختیار کرتا جا رہا ہے اور اگر جنگی حالات اور معاشی پابندیوں میں نرمی نہ کی گئی تو لاکھوں مزید افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کٹھن صورتحال میں یمنی عوام ایک طرف گولہ بارود اور سیاسی بحران کا سامنا کر رہے ہیں تو دوسری طرف مہنگائی کا یہ نیا طوفان ان کی بقا کی جنگ کو مزید مشکل بنا رہا ہے۔