World
نائیجیریا میں حراست کے دوران کان کنوں کی ہلاکت کی تحقیقات
نائیجیریا میں پولیس نے حراست کے دوران 37 غیر قانونی کان کنوں کی پراسرار اموات پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اموات بیماری پھیلنے کی وجہ سے ہوئیں جبکہ ایک زندہ بچ جانے والے شخص نے دم گھٹنے کا انکشاف کیا ہے۔
نائیجیریا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک انتہائی تشویشناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حراست کے دوران 37 غیر قانونی کان کنوں کی پراسرار اموات کی باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس دلخراش واقعے نے ملک بھر میں انسانی حقوق اور پولیس کی حراست میں قیدیوں کے حالات پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ تمام افراد غیر قانونی کان کنی کے الزام میں گرفتار کیے گئے تھے اور پولیس کی تحویل میں موجود تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کی جانیں ایک اچانک پھیلنے والی بیماری کے باعث ضائع ہوئیں، جس نے حراستی مرکز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ دوسری جانب، اس سانحے میں معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے والے ایک شخص نے بالکل مختلف کہانی بیان کی ہے۔ اس زندہ بچ جانے والے کان کن کا کہنا ہے کہ اموات بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ حبس اور آکسیجن کی کمی کے باعث دم گھٹنے سے ہوئیں۔ اس کے بیان نے حکام کے اس دعوے کو سخت چیلنج کر دیا ہے جس میں بیماری کو موت کی وجہ قرار دیا جا رہا تھا۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام نے ایک غیر جانبدار تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو اس بات کا پتا لگائے گی کہ آیا یہ اموات واقعی کسی بیماری کا نتیجہ تھیں یا پھر حراستی مرکز میں انتہائی ناقص انتظامات، غفلت اور آکسیجن کی کمی اس المناک سانحے کا سبب بنی۔ مقامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔