LIVE
Loading Breaking News...

عمان میں جہاز سے جہاز پر تیل کی منتقلی اور آبِ ہرمز کا متبادل راستہ

News Image
آبِ ہرمز کی مسلسل بندش کے دوران عمان کی بندرگاہ سوہار میں جہاز سے جہاز پر تیل کی منتقلی کا عمل تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ ماہرین نے اس عمل میں موجود بڑے خطرات کے باوجود اسے متبادل تجارتی راستہ قرار دیا ہے۔
عالمی توانائی کی سپلائی لائنوں میں خلل کے بعد عمان کی سوہار بندرگاہ جہاز سے جہاز پر تیل کی منتقلی کے لیے ایک انتہائی مقبول مقام کے طور پر ابھر رہی ہے۔ آبِ ہرمز کی مسلسل بندش اور کشیدہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کی وجہ سے توانائی کمپنیوں اور جہاز رانی کے اداروں کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں عمان کے ساحلی علاقے اس سرگرمی کا نیا مرکز بن گئے ہیں۔ جہاز سے جہاز پر تیل کی منتقلی جسے شپ ٹو شپ ٹرانسفر بھی کہا جاتا ہے، اس وقت کی جاتی ہے جب خام تیل کو ایک بڑےٹینکر سے دوسرے جہاز میں منتقل کیا جاتا ہے تاکہ سفر کو جاری رکھا جا سکے یا ترسیل کے انتظامات کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ طریقہ کار بحری تجارت کو رواں دواں رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب روایتی تجارتی گزرگاہیں رکاوٹوں کا شکار ہیں۔ تاہم، اس عمل کے ساتھ کئی طرح کے خطرات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی بحری ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سمندر میں تیل کی منتقلی کے دوران حادثات، ماحولیاتی آلودگی اور تیل کے اخراج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جو کہ سمندری حیات اور خطے کے ماحولیاتی توازن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود، بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات اور سپلائی چین کو برقرار رکھنے کے دباؤ کے پیشِ نظر، کمپنیاں تمام تر حفاظتی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے عمان کے اس متبادل روٹ کا بھرپور استعمال کر رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں اگر آبِ ہرمز کی صورتحال میں بہتری نہ آئی تو عمان کی ان بندرگاہوں پر دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے، جو عالمی تیل کی منتقلی کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔