World
روس کے پارلیمانی انتخابات 2021 اور یونائیٹڈ رشیا پارٹی کا غلبہ
روس میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات ملک کی سیاسی مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ یونائیٹڈ رشیا پارٹی نے پچھلے انتخابات میں دو تہائی سے زائد نشستیں حاصل کی تھیں اور اس بار بھی غلبہ برقرار رکھنے کی پوزیشن میں ہے۔
روس میں منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات ملکی سیاست میں ایک انتہائی اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان انتخابات کے دوران ملک بھر کے ووٹرز اپنی نئی پارلیمنٹ کے لیے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں جو کہ ملک کے آئندہ کے لائحہ عمل اور قانون سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ ان انتخابات کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ کون سی سیاسی جماعتیں اور امیدوار بیلٹ پیپر کا حصہ بن رہے ہیں اور ان کا سیاسی پس منظر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ان انتخابات کے نتائج نہ صرف روس کے اندرونی نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ اس کا بین الاقوامی تعلقات پر بھی گہرا اثر پڑتا ہے۔ پچھلے عام انتخابات میں صدر ولادیمیر پوتن کی حامی جماعت یونائیٹڈ رشیا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈوما (Duma) میں دو تہائی سے زائد نشستیں اپنے نام کی تھیں۔ اس تاریخی کامیابی نے پارٹی کو قانون سازی اور پالیسی سازی میں فیصلہ کن برتری عطا کی تھی۔ موجودہ سیاسی ماحول میں بھی تجزیہ کار یہی توقع کر رہے ہیں کہ یونائیٹڈ رشیا ایک بار پھر پارلیمنٹ میں اپنا غلبہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی، تاہم اس بار حزب اختلاف اور دیگر چھوٹی جماعتوں کی طرف سے بھی سخت مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ انتخاب کے اس عمل میں عوام کی شرکت اور مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان مباحثے اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ آنے والے سالوں میں روس کی اندرونی اور بیرونی پالیسیاں کس سمت گامزن ہوں گی۔ حکومت مخالف حلقے ان انتخابات کو جمہوری عمل کی شفافیت کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں جبکہ حکومتی حامی اسے ملکی استحکام اور تسلسل کی ضمانت قرار دیتے ہیں۔