LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ کا ایرانی کریک ڈاؤن پر انسانیت سوز جرائم کا الزام

News Image
اقوام متحدہ کے ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے ملک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران سنگین جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس تحقیقاتی رپورٹ میں ایرانی حکومت کی جانب سے طاقت کے بے دریغ استعمال اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی مشن نے اپنی جامع رپورٹ میں یہ اہم اور سنگین انکشاف کیا ہے کہ ایران میں ہونے والے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ملکی سکیورٹی فورسز نے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ مشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، ایرانی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا انتہائی بے دریغ اور غیر متناسب استعمال کیا۔ رپورٹ میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ مظاہروں کو کچلنے کے لیے ریاستی مشینری کا بھرپور استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔ تحقیقاتی مشن کا کہنا ہے کہ ایرانی فورسز نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور بلاجواز گرفتاریاں کیں۔ ان کارروائیوں کو محض قانون نافذ کرنے کی کوشش قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ منظم طریقے سے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے زمرے میں آتی ہیں۔ رپورٹ میں متاثرین اور ان کے لواحقین کے لیے انصاف کے حصول کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کو کٹہرے میں لایا جائے۔ بین الاقوامی برادری نے اقوام متحدہ کے اس مشن کی رپورٹ پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کریں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے اور عالمی عدالتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس رپورٹ کے بعد ایران پر بین الاقوامی دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا، جس سے تہران حکومت کے لیے سفارتی سطح پر مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔