LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی کوریا کا مؤقف: امریکہ شمالی کوریا مذاکرات ممکن، ہرمز میں فوج نہیں بھیجیں گے

News Image
جنوبی کوریا کے صدر نے امریکہ اور شمالی کوریا کے مابین مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا ہے کہ سیئول ایران کے خلاف امریکی جنگ میں اپنی فوجیں تعینات نہیں کرے گا۔
جنوبی کوریا کے صدر نے ایک اہم بین الاقوامی بیان میں کہا ہے کہ واشنگتن اور پیانگ یانگ کے مابین مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں اور ان کا ملک اس سلسلے میں فریقین کے درمیان ثالثی اور سہولت کاری کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ خطے میں امن اور استحکام کے لیے اس طرح کے سفارتی اقدامات کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ جنوبی کورین حکومت کا ماننا ہے کہ کوریائی شبه جزیرے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے براہ راست بات چیت اور سفارتی روابط ناگزیر ہیں۔ دوسری جانب، جنوبی کوریا نے مشرق وسطیٰ بالخصوص آبنائے ہرمز کے تنازع میں کسی بھی قسم کی فوجی شمولیت سے صاف انکار کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیئول ایران کے خلاف امریکہ کی مبینہ جنگ یا فوجی کارروائیوں کے لیے اپنی مسلح افواج یا بحری بیڑے آبنائے ہرمز میں تعینات نہیں کرے گا۔ اس فیصلے کا مقصد خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی توازن کو برقرار رکھنا ہے تاکہ ملکی مفادات کو کسی بھی غیر ضروری جغرافیائی سیاسی کشمکش سے محفوظ رکھا جا سکے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق جنوبی کوریا کا یہ متوازن مؤقف اس کی خارجہ پالیسی کی ایک نئی جہت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک طرف جہاں سیئول امریکہ کے ساتھ اپنے روایتی سکیورٹی اتحاد کو برقرار رکھنے کا خواہاں ہے، وہیں دوسری طرف وہ بین الاقوامی تنازعات میں براہ راست الجھنے سے گریز کی حکمت عملی پر بھی کاربند ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے مابین اگر نئے سرے سے مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو یہ خطے میں کشمکش کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومتی ترجمان نے مزید واضح کیا کہ جنوبی کوریا کی اولین ترجیح اپنے قومی دفاع کو مضبوط بنانا اور کوریائی شبه جزیرے پر پائیدار امن کا قیام ہے۔ ایران کے معاملے پر فوجی غیرجانبداری کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ سیئول اپنے فیصلوں میں اپنی معاشی اور سکیورٹی ترجیحات کو سب سے اوپر رکھتا ہے۔ آنے والے دنوں میں امریکہ اور شمالی کوریا کے تعلقات میں کیا پیش رفت ہوتی ہے، اس پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔