Pakistan
پمز ہسپتال آتشزدگی: واحد زندہ بچ جانے والا شیرخوار بچہ بھی جاں بحق
اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں گزشتہ ماہ لگنے والی خوفناک آگ کے حادثے میں معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے والا اکلوتا بچہ بھی جاں بحق ہو گیا ہے۔ اس المناک واقعے کے نتیجے میں نرسری میں موجود تمام پندرہ معصوم بچے اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نرسری یونٹ میں گزشتہ ماہ لگنے والی آگ کے حادثے میں معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے والا واحد معصوم بچہ بھی انتقال کر گیا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے جمعہ کے روز اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ شدید علالت کے بعد پندرہواں بچہ بھی جانبر نہ ہو سکا۔ یاد رہے کہ چھبیس اگست کو پمز کے چلڈرن نرسری وارڈ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں چودہ بچے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ ایک بچی کو نرس رضیہ نورین نے اپنی جان پر کھیل کر بحفاظت نکال لیا تھا۔
پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سلمان نے تصدیق کی کہ پندرہویں شیرخوار بچی بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی ہسپتال کی جانب سے مفت ایمبولینس فراہم کی گئی تاکہ بچی کی میت اور اس کے لواحقین کو ان کے آبائی علاقے آزاد جموں و کشمیر باعزت طریقے سے پہنچایا جا سکے۔ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ بچی کی پیدائش قبل از وقت ہوئی تھی اور وہ مسلسل مختلف طبی پیچیدگیوں کا شکار تھی، جس کی وجہ سے اس کی حالت شروع سے ہی انتہائی نازک تھی اور بچنے کے امکانات بہت کم تھے۔
دوسری جانب اس المناک حادثے کے بعد حکومت کی طرف سے اعلان کردہ پچاس لاکھ روپے کے معاوضے کی ادائیگی کے بارے میں تکنیکی طور پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔ وزارت صحت کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ متاثرہ خاندان کو معاوضہ ملے گا یا نہیں، اس بارے میں ابھی حتمی بات کہنا قبل از وقت ہے۔ یاد رہے کہ اس خوفناک واقعے کے بعد ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات پر شدید سوالات اٹھے تھے اور وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔
سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں بننے والی انکوائری کمیٹی نے تریپن صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے، جس میں ادارے کی سنگین غفلت اور انتظامی ناکامی کو تسلیم کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پمز کی اعلیٰ انتظامیہ حفاظتی اقدامات کرنے اور خطرات سے نمٹنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ واقعے کے ذمہ دار آٹھ افسران کے خلاف فوجداری کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔