Pakistan
پاکستان کا سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر حد تک جانے کا عزم
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور دفاع کے لیے ہر ممکن حد تک جانے کو تیار ہے۔ اس عزم کا اعادہ حوثی حملوں کے تناظر میں خطے کی سکیورٹی اور دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
راولپنڈی (نیکسرہ نیوز اردو) پاکستان نے ایک بار پھر سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وابستگی کا بھرپور اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک مملکتِ سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) اور دفتر خارجہ کے حالیہ بیانات میں اس عزم کو دوٹوک انداز میں دہرایا گیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی ارضی سالمیت کے تحفظ کو اپنی قومی سلامتی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔ حالیہ دنوں میں خطے بالخصوص حوثی عسکریت پسندوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں پاکستان کا یہ مؤقف خطے میں امن اور توازن قائم رکھنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ دوطرفہ دفاعی معاہدوں کی روح اور نیت پر سختی سے کاربند ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں اور کسی بھی بیرونی خطرے یا جارحیت کے موقع پر اسلام آباد ہمیشہ ریاض کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے۔ پاکستانی عسکری قیادت کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا خطرہ پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے، لہذا ریاض کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب، پاکستان نے یہ بھی مؤقف اپنایا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی بڑی فوجی کشیدگی سے بچنے کے لیے طاقت کے استعمال کے مقابلے میں بات چیت اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔ حوثی خطرات سے نمٹنے کے لیے سیاسی اور سفارتی کوششوں کی حمایت کے ساتھ ساتھ پاکستان نے یہ دوٹوک پیغام بھی دے دیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو دفاعی تعاون کے تمام دستیاب ذرائع بروئے کار لائے جائیں گے۔ اس پالیسی سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام آباد اور ریاض کے تعلقات محض سفارتی نوعیت کے نہیں بلکہ گہرے اور تاریخی اسٹریٹجک اتحاد پر مبنی ہیں جو وقت کی ہر آزمائش پر پورا اترے ہیں۔