LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حملے، پانچ ہلاک

News Image
سعودی عرب اور یمنی حوثی باغیوں کے درمیان حالیہ جھڑپوں اور حملوں کے تبادلے کے نتیجے میں پانچ افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس کشیدگی کے بعد خطے میں سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
سعودی عرب اور یمنی حوثی باغیوں کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جب دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف حملوں کا تبادلہ کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اس پرتشدد صورتحال اور فضائی حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر پانچ افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جس سے خطے میں پہلے سے موجود تناؤ میں مزید شدت پیدا ہو گئی ہے۔ یمنی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں میں حوثیوں کے زیر اثر علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ٹیلی کام کے مواصلاتی ٹاورز بھی شامل تھے، جس کے نتیجے میں مواصلاتی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ حوثی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں ایک شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، خطے میں جاری اس تنازع کے اثرات بین الاقوامی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، بالخصوص بحیرہ احمر کے راستے بحری جہازوں کی نقل و حمل اور عالمی تجارت کو درپیش سیکیورٹی کے خطرات پر کئی ممالک نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس دوران سوشل میڈیا پر مکہ مکرمہ کے اوپر حوثی ڈرون کے مبینہ انہدام سے متعلق پرانی ویڈیوز کو حالیہ مناظر کے طور پر شیئر کیے جانے کے واقعات بھی سامنے آئے، جن پر مختلف حلقوں کی جانب سے وضاحتیں جاری کی گئیں۔ بھارتی سیاستدانوں اور عالمی رہنماؤں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اس قسم کے واقعات سے خطے کے مقدس مقامات اور بین الاقوامی تجارتی راستوں کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر فوری طور پر فریقین کے درمیان تحمل کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو یہ تنازع پورے خطے کے امن کو تباہ کر سکتا ہے، اس لیے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں کو اس بحران کے پرامن حل کے لیے فوری سفارتی کوششیں شروع کرنی چاہئیں تاکہ مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے اور بحیرہ احمر میں بحری گزرگاہوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔