Technology
سافٹ ویئر کی خرابی سے عالمی پروازوں میں خلل، رپورٹ جاری
ایک معمولی سے سافٹ ویئر نقص کی وجہ سے دنیا بھر میں فضائی نظام درہم برہم ہو گیا جس کے نتیجے میں دو ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔ اس اچانک بحران سے لاکھوں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
حال ہی میں سامنے آنے والی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، دنیا کے فضائی نظام میں ایک انتہائی حیران کن اور خطرناک واقعہ پیش آیا جہاں محض ایک ملی سیکنڈ کے سافٹ ویئر نقص نے پوری دنیا کے فضائی سفر کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ اس تکنیکی خرابی کی وجہ سے دو ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کرنا پڑیں جس سے ہوائی اڈوں پر افراتفری کا عالم پیدا ہو گیا۔ حکام کے مطابق اس واقعے نے ایوی ایشن انڈسٹری کی ڈیجیٹل سسٹمز پر حد سے زیادہ انحصار کو ایک بار پھر زیرِ بحث لے آيا ہے، کیونکہ ایک لمحے کی خامی بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سافٹ ویئر کے نقائص کی وجہ سے نہ صرف پروازیں منسوخ ہوئیں بلکہ سینکڑوں دیگر پروازیں گھنٹوں تاخیر کا شکار ہوئیں، جس کے باعث دنیا بھر کے مختلف ایئرپورٹس پر لاکھوں مسافر پھنس کر رہ گئے۔ مسافروں کو ٹکٹوں کی واپسی، نئی بکنگ اور رہائش کے حصول کے لیے شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایئرلائن کمپنیوں کو اس اچانک بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا پڑے، تاہم نظام کی مکمل بحالی میں کافی وقت لگ گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید فضائی سفر مکمل طور پر خودکار اور پیچیدہ کمپیوٹر سسٹمز پر منحصر ہے، اور اگر ان سسٹمز میں معمولی سا بھی سقم یا تکنیکی نقص آجائے تو اس کے نتائج انتہائی ہولناک ہو سکتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر کی ایئرلائنز اور سافٹ ویئر ڈویلپرز پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اپنے حفاظتی پروٹوکولز کا ازسرنو جائزہ لیں اور ایسے بیک اپ سسٹمز تیار کریں جو ملی سیکنڈز میں آنے والی خرابیوں کو فوری طور پر خود بخود درست کر سکیں۔
متعلقہ اداروں نے اس واقعے کی جامع تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے ناگہانی حادثات سے بچا جا سکے۔ مسافروں اور فضائی ماہرین نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ انسانی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل سسٹمز کی جانچ پڑتال کے عمل کو مزید سخت کیا جانا چاہیے تاکہ ٹیکنالوجی کی خرابی کی وجہ سے معصوم شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔