LIVE
Loading Breaking News...

روسی ہائبرڈ حملے، ایمانوئل میکرون کا یورپ کے لیے انتباہ

News Image
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کے خلاف روسی ہائبرڈ حملوں میں مسلسل شدت آتی جا رہی ہے۔ انہوں نے ملکی حکومت کو اہم تنصیبات اور دفاعی صنعتی اداروں کی سیکیورٹی سخت کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کے خلاف روسی ہائبرڈ حملوں کی شدت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ براعظم کی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حالیہ مہینوں میں روایتی خطرات کے علاوہ سائبر حملوں، غلط معلومات کی مہمات اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فرانسیسی حکومت کو انتہائی چوکس رہنے اور ہر ممکن جوابی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس سنگین خطرے سے نمٹنے کے لیے صدر میکرون نے ملکی حکومت کو سخت احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر تمام اہم تنصیبات، توانائی کے ذرائع اور دفاعی صنعت کے اداروں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ دفاعی اور حساس مقامات کی سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ سبوتاج یا ڈیجیٹل حملے کو ناکام بنایا جا سکے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ ملک کے اسٹریٹجک اثاثے مکمل طور پر محفوظ رہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی اب میدانِ جنگ سے نکل کر ہائبرڈ وارفیئر اور سائبر اسپیس تک پھیل چکی ہے۔ فرانسیسی قیادت کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پورا یورپی خطرہ اپنی سیکیورٹی پالیسیوں پر نظرثانی کر رہا ہے۔ یورپی یونین کے رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تمام رکن ممالک کو مل کر اس مشترکہ چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید موثر بنانا ہوگا۔ فرانسیسی صدر کی جانب سے اٹھائے جانے والے یہ اقدامات اس عزم کا مظہر ہیں کہ ملک اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید دفاعی معاہدوں اور حفاظتی پروٹوکولز کا اعلان متوقع ہے، جن کا مقصد دشمن عناصر کے کسی بھی ہائبرڈ حملے کو ناکام بنانا اور یورپی یونین کے اندرونی اتحاد کو مضبوط کرنا ہے۔