LIVE
Loading Breaking News...

میٹا اور ورچوئل ریئلٹی: ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرنے کا وقت

News Image
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ورچوئل ریئلٹی اور مصنوعی ذہانت کے آلات کو مزید قابل قبول بنانے کے لیے کمپنیوں کو پرانی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔ میٹا کو صارفین کے سماجی رویوں اور تحفظات کا خاص خیال رکھنا ہوگا تاکہ نئی ٹیکنالوجی معاشرے میں باآسانی قبول کی جا سکے۔
سنہ 2016 کا وہ دور جب پوکیمون گو کا جنون سر چڑھ کر بول رہا تھا اور لوگ پارکوں اور سڑکوں پر اس سمارٹ فون گیم کو کھیلنے میں مصروف تھے، ورچوئل ریئلٹی یعنی وی آر ہیڈسیٹس بھی ٹیکنالوجی کی دنیا کی سب سے بڑی پروڈکٹ بنے ہوئے تھے۔ اوکولس رسٹ، ایچ ٹی سی وائیو اور پلے اسٹیشن جیسے آلات ہر طرف چھائے ہوئے تھے اور ماہرین اسے مستقبل کی سب سے بڑی تبدیلی قرار دے رہے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی نے مزید ترقی کی اور مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی نے مارکیٹ میں اپنی ایک نئی جگہ بنالی۔ آج جب کمپنیاں صارفین کے لیے نئے اسمارٹ چشمے اور وی آر ہیڈسیٹس تیار کر رہی ہیں، تو ان کے سامنے سماجی ردعمل اور پرائیویسی جیسے سنجیدہ سوالات بھی کھڑے ہیں۔ ماضی میں وی آر اور سمارٹ گلاسز کے استعمال کے دوران بعض اوقات صارفین کو سماجی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ کیمرے اور سینسرز سے لیس ان آلات نے لوگوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت کے خدشات کو جنم دیا۔ ان مسائل کی وجہ سے بعض اوقات صارفین نے ان مصنوعات کو اپ منھ سے قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کی۔ میٹا جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے اب یہ انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ وہ ان تمام سابقہ تجربات کا بغور جائزہ لیں۔ نئی مصنوعات بناتے وقت صرف ہارڈ ویئر کی بہتری پر توجہ دینا کافی نہیں ہے، بلکہ صارفین کے اعتماد کو بحال کرنا اور معاشرتی اصولوں کا احترام کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ جب تک کمپنیاں لوگوں کی پرائیویسی کے تحفظ اور سوشل باؤنڈریز کا خیال نہیں رکھیں گی، تب تک اس قسم کی جدید ٹیکنالوجی عام صارفین میں مقبولیت حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار رہے گی۔ اس لیے مستقبل کے وی آر اور اے آئی پروجیکٹس کو کامیاب بنانے کے لیے ماضی کے اسباق کو یاد رکھنا اور ان پر عمل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔