World
برطانیہ میں تارکین وطن کی کشتی چلانے والے نوعمر کو قید
برطانیہ کی ایک عدالت نے 165 تارکین وطن سے بھری کشتی کو خطرناک انداز میں سمندر پار کرانے والے نوعمر ملزم کو دو سال اور تین ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ واقعہ غیر قانونی تارکین وطن کی سمندری نقل و حمل کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حصہ ہے۔
برطانیہ کی ایک عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے 165 تارکین وطن سے بھری ہوئی ایک غیر محفوظ اور اوور لوڈڈ کشتی کو سمندر کے خطرناک راستے سے گزارنے والے نوعمر ملزم کو دو سال اور تین ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر انگلش چینل کے راستے ہونے والی غیر قانونی ہجرت کے خطرناک پہلوؤں کو اجاگر کر دیا ہے جہاں انسانی اسمگلرز معصوم اور کم عمر افراد کو اس مکروہ دھندے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزم چین میتھوک اٹک (Chan Mathok Atak) اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال کر کشتی کو انتہائی نامساعد حالات میں آگے لے جا رہا تھا، جس سے کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آ سکتا تھا۔ برطانوی حکام کے مطابق اس طرح کے خطرناک سفر نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ انسانی جانوں کے ساتھ سنگین مذاق بھی ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سمندر کے راستے غیر قانونی طور پر لوگوں کو اسمگل کرنے والوں اور کشتیوں کے ملاحوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی تاکہ اس غیر قانونی دھندے کو روکا جا سکے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے سخت فیصلوں سے انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا لگے گا اور اس طرح کے خطرناک اقدامات کرنے والوں کے لیے ایک واضح پیغام جائے گا کہ قانون کی گرفت سے بچنا ناممکن ہے۔