Technology
آئی بی ایم کوانٹوم برتری: بٹ کوائن اور کرپٹو انڈسٹری پر اثرات
آئی بی ایم نے کوانٹوم ٹیکنالوجی میں اہم پیشرفت کا دعویٰ کیا ہے جس کے تحت 2028 تک بڑی تجارتی کامیابیاں حاصل ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ نظام کے ساتھ بٹ کوائن کو اس نئی ٹیکنالوجی سے شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم پیشرفت کے دوران معروف کمپنی آئی بی ایم نے ’کوانٹوم برتری‘ (Quantum Advantage) حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق، کوانٹوم کمپیوٹنگ کے شعبے میں یہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو مستقبل قریب میں کمپیوٹنگ کی دنیا کو یکسر بدل کر رکھ دے گا۔ آئی بی ایم کا ارادہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو باضابطہ طور پر سال 2028 تک تجارتی پیمانے پر مارکیٹ میں متعارف کرا دیا جائے گا، جس سے دنیا بھر کے صنعتی اور سائنسی شعبوں میں انقلاب برپا ہونے کی توقع ہے۔
اس نئی ٹیکنالوجی کی ترقی کا سب سے زیادہ اثر کرپٹو کرنسی انڈسٹری اور خاص طور پر بٹ کوائن پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی کرپٹو سیکیورٹی سسٹمز کوانٹوم کمپیوٹرز کی بے پناہ پروسیسنگ پاور کے سامنے غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔ چونکہ کوانٹوم کمپیوٹرز عام کمپیوٹرز کے مقابلے میں لاکھوں گنا تیزی سے پیچیدہ حسابی مسائل حل کر سکتے ہیں، اس لیے اس بات کا شدید خطرہ موجود ہے کہ موجودہ بٹ کوائن نیٹ ورک اس ٹیکنالوجی کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تاحال تیار نہیں ہے۔
فنانشل اور ٹیکنالوجی کے تجزیہ کار اس پیشرفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کرپٹو کرنسی کے نظام کو مستقبل کے کوانٹوم حملوں سے بچانے کے لیے حفاظتی تدابیر پر غور کر رہے ہیں۔ اگرچہ 2028 تک کا وقت کافی معلوم ہوتا ہے، تاہم بلاک چین ڈیولپرز کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ وقت سے پہلے ہی ایسے سیکیورٹی پروٹوکولز تیار کریں جو کوانٹوم کمپیوٹرز کے خطرے کو ناکام بنا سکیں۔ آئی بی ایم کا یہ دعویٰ نہ صرف سائنس کی دنیا میں ایک انقلاب ہے بلکہ ڈیجیٹل کرنسی کے مستقبل کے لیے بھی ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔