LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت، نئے پول کے نتائج

News Image
نئے عوامی سروے کے مطابق امریکہ میں ایران کے ساتھ جنگ کی مخالفت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ سروے میں شامل ستر فیصد سے زائد افراد کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی ٹیم کے پاس تنازع کے حل کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں ہے۔
امریکہ میں ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کی مخالفت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور تازہ ترین عوامی سروے کے مطابق یہ مخالفت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی عوام کی بڑی اکثریت اب ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے طویل مدتی یا مسلح تنازع کے سخت خلاف نظر آ رہی ہے اور وہ حکومت سے سفارتی حل تلاش کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں بھی گہری تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ عوام کی بڑھتی ہوئی ناراضگی آئندہ کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ حالیہ سروے کے چشم کشا اعداد و شمار کے مطابق تقریبا اکাত্তر فیصد امریکی شہریوں کا یہ پختہ یقین ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ان کی ٹیم کے پاس ایران کے ساتھ جاری تنازع کو حل کرنے کے لیے کوئی واضح یا موثر حکمت عملی موجود نہیں ہے۔ عوام کا ماننا ہے کہ بغیر کسی ٹھوس روڈ میپ کے اس قسم کے تنازعات میں الجھنا نہ صرف ملکی سلامتی بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ امریکی عوام جنگ کی بجائے اقتصادی استحکام اور اندرونی مسائل کے حل کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عوامی جذبے اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ امریکی معاشرہ مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی مداخلتوں سے تھک چکا ہے۔ ماضی کی طویل اور ناکام جنگوں کے اثرات اب بھی امریکی معیشت اور معاشرے پر محسوس کیے جا رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ عوام کسی بھی نئی جنگ کے خیالات سے خوفزدہ ہیں۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے وقتاً فوقتاً سخت بیانات سامنے آتے رہتے ہیں، لیکن عوامی سطح پر بڑھتا ہوا دباؤ حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس عوامی رجحان کے امریکی خارجہ پالیسی پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پالیسی سازوں کو ایران کے معاملے پر کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اپنے عوام کی اس بڑھتی ہوئی مخالفت کو لازمی مدنظر رکھنا ہوگا۔ اگر تنازع میں مزید کشیدگی آتی ہے تو واشنگٹن کو اندرونی محاذ پر شدید عوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو کہ موجودہ حکومت کے سیاسی مستقبل کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔