Sports
فیفا صدر گیانی انفانتینو کا استعفیٰ، جرمن فٹبال حکام کا سخت مؤقف
جرمن فٹبال ایسوسی ایشن کے نائب صدر ہانس جواخم واٹزکے نے فیفا صدر گیانی انفانتینو کے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اب اس معاملے میں کوئی لیت و لعل یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
برلن: بین الاقوامی فٹبال کی کیوبا اور اندرونی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے جب جرمن فٹبال فیڈریشن کے نائب صدر ہانس جواخم واٹزکے نے فیفا کے صدر گیانی انفانتینو کے خلاف سخت ترین الفاظ میں بیان جاری کیا ہے۔ واٹزکے نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ گیانی انفانتینو کو اب بغیر کسی حیل و حجت اور تاخیر کے اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی فٹبال کے مفاد میں یہ انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ فیفا کی قیادت میں تبدیلیاں لائی جائیں تاکہ تنظیم پر شائقین کا اعتماد بحال ہو سکے۔
ہانس جواخم واٹزکے کا شمار یورپی فٹبال کے با اثر ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے، اور ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فٹبال کی دنیا کے مختلف حلقوں کی طرف سے فیفا کی موجودہ پالیسیوں اور انتظامی امور پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کی فہرست میں جرمنی کی جانب سے اس بلند آواز تنقید نے اس تنازع کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ واٹزکے نے اپنے بیان میں زور دے کر کہا کہ اب مزید وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں ہے اور فیفا کے اعلیٰ ترین منصب پر بیٹھی شخصیت کو استعفیٰ دینا ہوگا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی دنیا بھر سے کئی فٹبال شخصیات اور ایسوسی ایشنز کی جانب سے فیفا کی انتظامیہ پر تنقید کی جاتی رہی ہے، تاہم جرمن فٹبال ایسوسی ایشن کے نائب صدر کی جانب سے اتنا سخت اور براہ راست مطالبہ سامنے آنے کے بعد معاملے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ فٹبال کے مبصرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر بین الاقوامی سطح پر مزید گرما گرم بحث دیکھنے کو ملے گی اور دیگر یورپی ممالک بھی اس حوالے سے اپنا لائحہ عمل طے کر سکتے ہیں۔
گیانی انفانتینو کی قیادت پر اٹھنے والے ان تازہ سوالات سے فیفا کے اندرونی حلقوں میں بھی کھلبلی مچ گئی ہے۔ فٹبال شائقین اور مختلف کلبز کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا فیفا انتظامیہ یا خود گیانی انفانتینو اس سخت تنقید کا کیا جواب دیتے ہیں اور آیا یہ دباؤ عالمی فٹبال کی انتظامی ساخت میں کسی بڑی تبدیلی کا باعث بنے گا یا نہیں۔