World
جنوبی بحیرہ چین: چینی جہاز کی فلپائنی جہاز کو ٹکر، کشیدگی میں اضافہ
فلپائنی کوسٹ گارڈ نے چین پر صوبہ پالاوان کے قریب خطرناک فوجی ہتھکنڈے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ حالیہ واقعے میں ایک چینی جہاز نے فلپائنی سرکاری جہاز کو ٹکر ماری ہے۔
جنوبی بحیرہ چین کے متنازعہ آبی حدود میں کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے جب ایک چینی بحری جہاز نے فلپائنی سرکاری جہاز کو مبینہ طور پر ٹکر مار دی۔ فلپائنی کوسٹ گارڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں چین پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس کے جہاز نے پالاوان صوبے کے قریب انتہائی خطرناک اور جارحانہ فوجی ہتھکنڈے استعمال کیے جس کی وجہ سے یہ تصادم پیش آیا۔ یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان سمری حدود کے تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے اور خطے میں سکیورٹی خدات کو بھی جنم دے رہا ہے۔ فلپائنی حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی خطرناک کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور اس سے خطے کا امن تباہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ جنوبی بحیرہ چین طویل عرصے سے عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کا مرکز رہا ہے۔ تجارتی لحاظ سے اس اہم سمندری گزرگاہ پر کئی ممالک اپنے دعوے پیش کرتے ہیں، جن میں چین کا موقف سب سے زیادہ جارحانہ رہا ہے۔ فلپائن ماضی میں بھی چینی کوسٹ گارڈز کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی شکایات کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ ٹکر کا واقعہ ان تمام واقعات میں سب سے زیادہ سنگین قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے تصادمات سے کسی بھی وقت بڑا بحران پیدا ہونے کا خطرہ موجود رہتا ہے، جس سے دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔
فلپائنی حکومت نے اس جارحیت کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنوبی بحیرہ چین میں امن و امان کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ ادھر، علاقائی دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس تنازع کے فوری حل کے لیے سفارتی سطح پر مذاکرات کی شدید ضرورت ہے تاکہ کسی بھی بڑے عسکری تصادم کو روکا جا سکے۔ واقعے کے بعد فلپائنی کوسٹ گارڈ نے اپنی سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور متاثرہ جہاز کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ چین کی جانب سے اس واقعے پر فی الحال کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔