Pakistan
پاکستان کا سعودی عرب کے دفاع کے عزم کا اعادہ
پاکستان نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا بھرپور اعادہ کیا ہے۔ یہ یقین دہانی حوثیوں کے خلاف ریاض کی جنگ میں پاکستان اور ترکیہ کے کردار پر اٹھنے والے سوالات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
اسلام آباد: پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کے ابہام کی کوئی گنجائش نہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ تازہ یقین دہانی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دفاعی معاہدوں اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پس منظر میں پاکستان اور ترکیہ کے مؤقف کے حوالے سے مختلف سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ پاکستانی حکام نے دوٹوک الفاظ میں باور کرایا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری اسلام آباد کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
حالیہ برسوں میں خطے میں حوثیوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور ریاض کی سکیورٹی کے امور پر بین الاقوامی سطح پر مختلف تجزیے کیے جا رہے ہیں۔ اس تناظر میں بعض مبصرین کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ دفاعی تعاون کے نئے معاہدوں کے بعد علاقائی تنازعات میں پاکستان کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ تاہم، اعلیٰ سطح پر ہونے والے رابطوں اور بیانات سے یہ بات بالکل عیاں ہو گئی ہے کہ پاکستان روایتی طور پر سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ اور سٹریٹیجک تعلقات کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے اور مشکل وقت میں سعودی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے کا امن اور استحکام پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی ستون ہے۔ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دفاعی اور معاشی شعبوں میں تعاون کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس تازہ یقین دہانی سے خطے میں پائی جانے والی تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے اور یہ پیغام واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سکیورٹی اور دفاعی تعاون پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔