World
روس کے پارلیمانی انتخابات اور جنگ کا تناظر
روس میں یوکرین پر حملے کے بعد ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات کو ناقدین نے ایک ڈھونگ قرار دیا ہے جبکہ حامیوں کے نزدیک یہ قوم پرستی کو مضبوط کرنے کا ایک موقع ہے۔ ان انتخابات کے تناظر میں ملک کی سیاسی فضا میں جنگ کے خلاف کسی بھی مؤقف کی گنجائش ناپید دکھائی دیتی ہے۔
روس میں یوکرین پر فوجی مداخلت اور حملے کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کے حوالے سے ملک اور دنیا بھر میں شدید بحث جاری ہے۔ بین الاقوامی مبصرین اور ناقدین ان انتخابات کو ایک سیاسی ڈھونگ اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں، جن کا مقصد موجودہ سیاسی ڈھانچے اور پالیسیوں کو قانونی حیثیت دینا ہے۔ دوسری جانب، حکومتی حلقے اور حامی اسے ملکی خود مختاری، اتحاد اور قوم پرستی کو مزید مستحکم کرنے کا ایک سنہری موقع قرار دے رہے ہیں۔
انتخابی مہم اور سیاسی منظر نامے کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس وقت روسی سیاست میں جنگ کے خلاف یا اس کی مخالفت میں بات کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی ہے۔ روس کی اہم پارلیمانی جماعتوں اور سیاسی دھڑوں میں اس حوالے سے ایک عجیب سا اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ ملک کو اس وقت اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی سب سے اہم تقاضا ہے۔ نتیجے کے طور پر، کوئی بھی بڑی یا با اثر جماعت کھل کر جنگ مخالف نعرہ یا پالیسی لے کر عوام کے سامنے آنے کی جرات نہیں کر پا رہی۔
اس صورتحال نے ملک کے اندر موجود جمہوری آوازوں اور حزب اختلاف کے کردار کو انتہائی محدود کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے انتخابات جمہوریت کی روح کے منافی ہیں کیونکہ حقیقی معنوں میں متبادل پالیسیاں اور اختلافِ رائے پیش کرنے کا حق سلب کر لیا گیا ہے۔ اس کے برعکس، حکومتی حامیوں کا موقف ہے کہ جنگی حالات میں قوم کو تقسیم کرنے والی کسی بھی بحث کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور تمام سیاسی قوتوں کو ملکی مفاد کے لیے یکجا ہونا چاہیے۔
آنے والے دنوں میں یہ انتخابات روس کے مستقبل کی سیاسی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے، تاہم اس عمل سے یہ بات ضرور عیاں ہو گئی ہے کہ موجودہ روس میں جنگ کے معاملے پر قومی بیانیے سے انحراف کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ عوام اور مبصرین دونوں ہی کی نظریں اس عمل کے نتائج پر مرکوز ہیں کہ یہ سیاسی مشق ملک کے اندرونی استحکام اور بیرونی تعلقات کو کیا رخ دیتی ہے۔