World
روسی تیل اور امریکی ٹیرف: بھارت کا توانائی کے تحفظ پر سخت مؤقف
امریکی ایوانِ نمائندگان میں روسی تیل کی خریداری پر پابندیوں اور ایک سو فیصد تک ٹیرف کے بل کی منظوری کے بعد بھارت نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور بھارت اپنے شہریوں کے لیے توانائی کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گا۔
بھارت نے روسی تیل کی درآمدات پر امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے ممکنہ ایک سو فیصد ٹیرف اور نئی پابندیوں کے بل کے بعد واضح کر دیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ امریکی قانون سازوں کی جانب سے روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے اٹھائے جانے والے ان اقدامات نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو ایک مشکل سفارتی چوراہے پر لا کھڑا کیا ہے، کیونکہ بھارت اپنی بڑھتی ہوئی معاشی اور توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے روس سے سستے تیل کی درآمدات جاری رکھے ہوئے ہے۔
نئی دہلی میں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت اپنے قومی مفادات اور شہریوں کے لیے توانائی کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق، ملک کی توانائی کی پالیسی مکمل طور پر مارکیٹ کے زمینی حقائق اور ملکی مفاد پر مبنی ہے، اور اس بات کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ ملک کو سستی اور بلاتعطل توانائی کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ نئی صورتحال واشنگٹن اور نئی دہلی کے مابین سٹریٹجک شراکت داری کے لیے ایک بڑا امتحان بن کر ابھری ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادی یوکرین جنگ کے تناظر میں روس پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ماسکو کو جنگی اخراجات کے لیے فنڈنگ سے روکا جا سکے۔ تاہم، بھارت نے روایتی طور پر خودمختار خارجہ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے مغربی ممالک کی جانب سے روس پر عائد کردہ تنہائی کے دباؤ کو مسترد کیا ہے اور ماسکو کے ساتھ تجارتی تعلقات کو برقرار رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ نے واقعی یہ سخت ٹیرف نافذ کیے تو اس سے نہ صرف تجارتی محاذ پر کشیدگی بڑھے گی بلکہ سفارتی سطح پر بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
حالیہ پیش رفت کے بعد دنیا بھر کی نگاہیں واشنگٹن اور نئی دہلی کے آئندہ لائحہ عمل پر مرکوز ہیں۔ بھارت کا اصرار ہے کہ توانائی کی مارکیٹ میں استحکام کے لیے تمام ممالک کے ساتھ تعاون ضروری ہے اور اس طرح کے یکطرفہ اقدامات عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی چین کو مزید غیر مستحکم کر سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں میں اس اہم معاملے پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے تاکہ کسی بھی بڑے تجارتی تصادم سے بچا جا سکے۔