LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد مارچ: حکومت کا مظاہرین کو روکنے کا سخت فیصلہ

News Image
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے والے کسی بھی گروہ کو سختی سے روکا جائے گا۔ انہوں نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کا انتباہ بھی جاری کیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ حکومت اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے والے کسی بھی شخص یا گروہ کو روکنے کے لیے ہر ممکنہ اور ضروری اقدام اٹھائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون پوری سختی کے ساتھ حرکت میں آئے گا اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکارتی ذرائع کے مطابق دارالحکومت کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہر میں سڑکیں بند کرنے کے خلاف سخت احکامات جاری کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے اعلان کردہ احتجاج اور مارچ کے تناظر میں ممکنہ رکاوٹوں پر وارننگ جاری کی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ شہریوں کی آمدورفت کو متاثر کرنے اور سڑکیں بلاک کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ عام شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس دوران اسلام آباد پولیس نے بھی ممکنہ احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔ پولیس حکام نے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹینرز کی نقل و حرکت شروع کر دی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری طور پر سڑکوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔ دوسری جانب ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پولیس نے اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج سے قبل مبینہ طور پر ایک ہزار کے قریب کنٹینرز ضبط کر لیے ہیں جس سے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری اس کشمکش کے باعث آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ سکتا ہے، تاہم انتظامیہ کسی بھی صورت میں ریڈ زون اور اہم تنصیبات کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔