World
یمن میں حوثی مخالف فورسز کا فوجی زوال پر انکوائری کا فیصلہ
یمن کی حوثی مخالف فورسز نے حالیہ دنوں میں ہونے والی اچانک فوجی ناکامی اور محاذ پر پسپائی کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس پیشرفت سے خطے میں جاری کشیدگی اور عسکری حکمت عملیوں پر از سر نو غور کیا جا رہا ہے۔
یمن کی حوثی مخالف فورسز نے حالیہ جنگی محاذوں پر پیش آنے والی اچانک فوجی شکست اور حیرت انگیز پسپائی کے اسباب کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کا آغاز کر دیا۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، حالیہ ہفتوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں میں سعودی حمایت یافتہ فورسز اور حوثی ملیشیا کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھنے میں آئیں جن کے دوران اہم اسٹریٹجک مقامات پر سرکاری اور اتحادی افواج کو پے در پے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقات اس بات کا احاطہ کریں گی کہ کون سی اندرونی اور بیرونی وجوہات تھیں جن کی بنا پر تربیت یافتہ اور مسلح یونٹس کو اس قدر جلد پسپا ہونا پڑا۔ دوسری جانب، یمن کے اہم شہر مارب کے اطراف میں بھی جھڑپوں کا سلسلہ شدت اختیار کر چکا ہے جہاں حوثی ملیشیا کی پیش قدمی نے سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق فریقین کے درمیان ہونے والی فائرنگ اور زمینی جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد جانی نقصان بھی ہوا ہے، جس سے انسانی بحران میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یمنی تنازعے میں حوثی تحریک نے پچھلے ਕੁछ برسوں میں ایک چھوٹے پہاڑی گروپ سے لے کر علاقائی سطح پر ایک مؤثر عسکری طاقت کا روپ دھار لیا ہے جو اب خطے کے سمندری اور زمینی روٹس کے لیے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ان حالات میں حوثی مخالف اتحاد کے اندرونی حلقوں کی جانب سے شروع کی جانے والی یہ انکوائری اس بات کا اشارہ ہے کہ عسکری قیادت اپنی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی لانے پر غور کر رہی ہے تاکہ حوثیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکا جا سکے اور کھوئے ہوئے علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کیا جا سکے۔