AI
مصنوعی ذہانت کو کنٹرول کرنے کے لیے صرف ایک سال باقی، ماہرین کی وارننگ
مصنوعی ذہانت کے بانی اور ماہرین نے امریکی کانگریس کو خبردار کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو منظم کرنے کے لیے ان کے پاس صرف ایک سال کا وقت باقی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ضابطہ اخلاق نہ ہونے کی صورت میں معیشت اور انسانیت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں 'گوڈ فادر' کہلانے والی اہم شخصیت نے امریکی کانگریس کو ایک سنگین انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے پاس مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کو ضابطے میں لانے اور ریگولیٹ کرنے کے لیے اب صرف ایک سال یا اس سے بھی کم وقت بچا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس دوران مناسب قوانین اور ضابطہ اخلاق مرتب نہ کیے گئے تو اس کے اثرات دنیا بھر کے معاشروں اور معیشتوں پر انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ جدید اے آئی سسٹمز کی بے لگام ترقی اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں روایتی حکومتی ادارے اس کی رفتار کا ساتھ دینے سے قاصر ہیں۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق دنیا بھر کی بڑی اے آئی کمپنیاں اس بات پر گہری تشویش میں مبتلا ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں انسانوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ تاہم، ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسانیت کو درپیش طویل المدتی خطرات کے علاوہ، مصنوعی ذہانت امریکی اور عالمی معیشت کو بہت جلد، یعنی مستقبل کے کسی بھی دور سے کہیں پہلے شدید نقصان سے دوچار کر سکتی ہے۔ معاشی ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ روزگار کے مواقع میں کمی اور کاروباری منڈیوں میںاچانک تبدیلیوں سے معاشی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال نے مصنوعی ذہانت کی سکیورٹی اور اخلاقیات کے حوالے سے جاری بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ حال ہی میں معروف مصنوعی ذہانت کے ادارے اینتھروپک (Anthropic) کے ایک اعلیٰ محقق کے استعفیٰ اور دیگر اہم شخصیات کے بیانات نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ صنعت کے اندرونی لوگ بھی اس ٹیکنالوجی کی نامعلوم سمت سے خوفزدہ ہیں۔ صنعت کے اندر سے اٹھنے والی ان آوازوں نے پالیسی سازوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر عملی اقدامات کریں۔
امریکی کانگریس اور دیگر عالمی پارلیمنٹس اب اس بات پر غور کر رہی ہیں کہ کیا اس خطرناک اے آئی دوڑ کو روکا جا سکتا ہے یا کم از کم متوازن کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، قانون سازی کی سست رفتار اور ٹیکنالوجی کی راکٹ جیسی ترقی کے درمیان خلیج بہت وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ اگر آنے والے مہینوں میں مؤثر اقدامات نہ کیے گئے، تو دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو سکتی ہے جہاں مصنوعی ذہانت کے فیصلے انسانوں کے کنٹرول سے باہر ہو جائیں گے۔