LIVE
Loading Breaking News...

ارل اسپینسر کی کتاب اور شاہی خاندان میں تنازعہ

News Image
شہزادی ڈیانا کے بھائی ارل اسپینسر نے اپنی نئی کتاب میں کیے گئے دعووں کا پرزور دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بالکل سچ کہہ رہے ہیں۔ اس کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد برطانوی شاہی خاندان اور کنگ چارلس کے ساتھ تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
برطانوی شاہی خاندان ایک بار پھر شدید اندرونی تنازعات اور طوفان کی لپیٹ میں آ گیا ہے جب شہزادی ڈیانا کے بھائی ارل اسپینسر نے اپنی متنازعہ نئی کتاب کے بارے میں بی بی سی کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا۔ ارل اسپینسر نے اپنے انٹرویو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ وہ بالکل سچ کہہ رہے ہیں اور ان کی کتاب میں درج کیے گئے تمام حقائق اور واقعات حقیقت پر مبنی ہیں۔ ان کی اس کتاب نے گرمیوں کے پرسکون وقفے کے بعد شاہی محل میں ہلچل مچا دی ہے اور شاہی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ارل اسپینسر کی کتاب کے مندرجات کے مطابق، جب شہزادی ڈیانا کا انتقال ہوا تھا تو اس وقت شاہی خاندان کے اندر ردعمل انتہائی سرد مہری اور حیران کن تھا، جس پر اب شدید بحث شروع ہو چکی ہے۔ کتاب میں کیے جانے والے دعووں کے بعد کنگ چارلس نے بھی اس معاملے پر ایک نایاب اور غیر معمولی ردعمل جاری کیا ہے، جس سے میڈیا میں ان خبروں کو مزید ہوا ملی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کتاب شاہی خاندان کے ماضی کے زخموں کو دوبارہ ہرا کر رہی ہے اور ارل اسپینسر اور شاہی دربار کے درمیان لفظی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ کتاب کے چند حصے اتنے جذباتی اور تلخ ہیں کہ انہیں پڑھ کر ہر عام و خاص دنگ رہ گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، ارل اسپینسر کا یہ قدم برطانوی شاہی خاندان کے اندرونی معاملات کو ایک بار پھر عالمی میڈیا کی سرخیوں میں لے آیا ہے، جہاں عوام اور ماہرین دونوں ہی اس پر ملا جلا ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔ بی بی سی کو دیے گئے اس انٹرویو میں ارل اسپینسر نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں بلکہ تاریخی حقائق کو سامنے لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہزادی ڈیانا کی زندگی اور ان کی المناک موت کے اردگرد جو اسرار کے پردے حائل ہیں، انہیں ہٹانا وقت کی ضرورت ہے۔ شاہی خاندان کے ترجمان کی جانب سے اگرچہ اس معاملے پر براہ راست کوئی بڑا بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم شاہی ذرائع کا ماننا ہے کہ اس کتاب نے محل کے اندرونی ماحول کو کشیدہ کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کتاب کی فروخت اور اس پر ہونے والی بحث کے برطانوی معاشرے اور شاہی ساکھ پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔