LIVE
Loading Breaking News...

ڈور ڈیش سے چینی اے آئی ماڈلز کے استعمال پر امریکی قانون سازوں کی بازپرس

News Image
امریکی قانون سازوں نے فوڈ ڈلیوری کمپنی ڈور ڈیش کو خط لکھ کر چینی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے استعمال کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں۔ یہ اقدام امریکی کمپنیوں کی جانب سے غیر ملکی ٹیکنالوجی کے استعمال پر بڑھتی ہوئی حکومتی جانچ پڑتال کا حصہ ہے۔
امریکی قانون سازوں نے مشہور فوڈ ڈلیوری کمپنی ڈور ڈیش سے رابطہ کرکے اس بات کی وضاحت طلب کی ہے کہ آیا وہ اپنے آپریشنز میں چینی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ماڈلز کا استعمال کر رہی ہے یا نہیں۔ اس پیشرفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی قانون ساز اب مقامی کمپنیوں کی طرف سے غیر ملکی بالخصوص چینی ٹیکنالوجی کے استعمال پر انتہائی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ قومی سلامتی کے ممکنہ خطرات کو روکا جا سکے۔ سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ خط امریکی دارالحکومت میں بڑھتی ہوئی اس تشویش کا عکاس ہے جہاں امریکی کارپوریشنز کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں بیرونی مداخلت کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ڈور ڈیش کو بھیجی گئی اس درخواست میں کمپنی سے وضاحت مانگی گئی ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی کی سپلائی چین میں چینی اے آئی ماڈلز کا کتنا عمل دخل ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکی حکام نے اس نوعیت کے خدشات کا اظہار کیا ہو، بلکہ اس سے قبل بھی کئی بڑی کمپنیوں کو اسی طرح کے سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکی حکومت کا ماننا ہے کہ حساس ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں چینی ماڈلز کا استعمال امریکہ کی معاشی اور تکنیکی برتری کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ دوسری جانب، ڈور ڈیش کی طرف سے اس معاملے پر ابھی تک کوئی حتمی اور تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی انکوائریز آنے والے دنوں میں دیگر امریکی ٹیک کمپنیوں کے لیے بھی مشکلات کا باعث بن سکتی ہیں۔ ڈور ڈیش جیسی بڑی کمپنیاں اپنی ڈلیوری کی نقل و حرکت، کسٹمر سروس اور لاجسٹکس کو بہتر بنانے کے لیے جدید ترین الگورتھم کا استعمال کرتی ہیں، اور اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا ان الگورتھم کی تربیت کے لیے چینی ذرائع یا ماڈلز کا سہارا تو نہیں لیا گیا۔ اس پوری صورتحال کے تناظر میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ واشنگٹن میں ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ اور چین کے درمیان کشمکش مزید شدت اختیار کرتی جا رہی ہے، اور اس کا اثر براہ راست دنیا بھر میں کام کرنے والی بڑی امریکی کمپنیوں پر پڑے گا۔