World
شہزادی ڈیانا کی موت کے بعد کنگ چارلس کا غصہ، ارل اسپینسر کا بڑا دعویٰ
شہزادی ڈیانا کے بھائی ارل اسپینسر نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈیانا کی وفات کے بعد کنگ چارلس نے ان کے ساتھ فون پر سخت غصے کا اظہار کیا تھا۔ یہ انکشاف بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں سامنے آیا ہے۔
شہزادی ڈیانا کے بھائی ارل اسپینسر نے حال ہی میں بی بی سی کی معروف صحافی لورا کوئنسبرگ کو ایک خصوصی انٹرویو دیا ہے جس میں انہوں نے اپنی نئی کتاب میں کیے گئے دعوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ ارل اسپینسر کے مطابق، شہزادی ڈیانا کی اچانک اور المناک موت کے بعد شاہی خاندان کے اندر شدید تناؤ اور اضطراب پایا جاتا تھا، اور اس دوران موجودہ کنگ چارلس (جو اس وقت پرنس آف ویلز تھے) انتہائی غصے کی حالت میں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صدمے کی گھڑی میں فون پر ہونے والی ایک بات چیت کے دوران چارلس اپنا آپ کھو بیٹھے تھے اور ان کا رویہ انتہائی سخت تھا۔
ارل اسپینسر کی یہ کتاب اور حالیہ انٹرویو برطانوی میڈیا اور شاہی خاندان کے حلقوں میں خصوصی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس انٹرویو میں اس دور کے تلخ حقائق پر بات کی جب پوری دنیا شہزادی ڈیانا کی موت کے سوگ میں ڈوبی ہوئی تھی، جبکہ شاہی خاندان کے اندرونی معاملات اور تعلقات شدید دباؤ کا شکار تھے۔ ارل اسپینسر کا یہ دعویٰ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ڈیانا کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد کے لمحات کتنے جذباتی اور تناؤ سے بھرپور تھے۔
ماہرین کے مطابق، ارل اسپینسر کی اس کتاب اور بی بی سی کے انٹرویو نے شاہی تاریخ کے ایک اور حساس باب کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ ڈیانا کی موت کے قریبی مناظر اور اس وقت کے شاہی افراد کے ردعمل کے بارے میں عوام ہمیشہ سے جاننے کے خواہشمند رہے ہیں۔ ارل اسپینسر کی جانب سے دی جانے والی یہ تفصیلات اس دور کے پس منظر کو سمجھنے میں ایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں، جس پر آنے والے دنوں میں مزید بحث ہونے کا امکان ہے۔