World
بی بی سی صحافی ہراسانی کیس: مجرموں کی اپیل مسترد
برطانیہ میں بی بی سی کی معروف صحافی کیٹرین نائ کو ہراساں کرنے والے تینوں افراد کی قانونی اپیل عدالت نے مسترد کر دی ہے۔ ان مجرموں کو اس سے قبل کمیونٹی سروس اور ری اسٹریننگ آرڈرز کی سزائیں دی گئی تھیں۔
برطانیہ کی ایک عدالت نے بی بی سی کی نامور صحافی اور دستاویزی فلم ساز کیٹرین نائ کو ہراساں کرنے کے جرم میں سزا پانے والے تین افراد کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب ان افراد نے کیٹرین نائ کی جانب سے بنائی گئی معروف دستاویزی فلم 'اے ویری برٹش کلٹ' کے حوالے سے انہیں نشانہ بنایا اور ان کا تعاقب کیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ان افراد کا رویہ انتہائی نامناسب اور ہراساں کرنے کے زمرے میں آتا تھا، جس نے صحافی کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور ذاتی زندگی کو شدید متاثر کیا۔ ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے کرسٹوفر ڈائچلر، جتندر کامرا اور سکھراج سنگھ کو ان کے جرائم کی پاداش میں کمیونٹی سروس کی سزائیں سنانے کے ساتھ ساتھ ری اسٹریننگ آرڈرز بھی جاری کیے تھے تاکہ وہ صحافی سے دور رہیں۔ تاہم، ان سزاؤں کے خلاف مجرموں کی جانب سے دائر کی جانے والی اپیل کو متعلقہ عدالت نے تمام شواہد اور گواہوں کا جائزہ لینے کے بعد باضابطہ طور پر خارج کر دیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے صحافیوں کے تحفظ اور ان کے خلاف ہونے والی آن لائن یا عملی ہراسانی کے انسداد کے حوالے سے ایک مضبوط پیغام گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی آزادی کے حامی اداروں نے بھی عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران دھمکانا یا ہراساں کرنا کسی صورت قابلِ برداشت نہیں ہونا چاہیے۔ اس فیصلے کے بعد مجرموں پر عائد کردہ پابندیاں اور سزائیں بدستور برقرار رہیں گی اور انہیں عدالتی احکامات کی سختی سے پابندی کرنا ہوگی۔