LIVE
Loading Breaking News...

یو ایف او فائلز کا چھٹا بیچ جاری، ۱۹۵۲ کی پراسرار ویڈیوز منظر عام پر

News Image
امریکی بحریہ کے ایک افسر کی جانب سے بنائی گئی نئی یو ایف او فوٹیج جاری کر دی گئی ہے جس میں ۱۹۵۲ کے دوران آسمان پر روشن گیندیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہ پراسرار مناظر ایئر فورس کے یو ایف او تحقیقاتی پروگرام کے حوالے کیے گئے تھے۔
امریکی محکمہ دفاع اور متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ یو ایف او (نا معلوم اڑنے والی اشیاء) کی فائلوں کے چھٹے بیچ میں ایک انتہائی دلچسپ اور پراسرار ویڈیو سامنے آئی ہے۔ یہ فوٹیج مبینہ طور پر ایک امریکی بحریہ کے افسر کی طرف سے فلمائی گئی تھی، جنہوں نے آسمان پر دیکھی جانے والی روشن اشیاء کے اس گروہ کی اطلاع ایئر فورس کے یو ایف او تحقیقاتی پروگرام کو دی تھی۔ یہ واقعہ تاریخ کے پرانے ادوار سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی بازگشت اب ایک بار پھر عالمی میڈیا میں سنائی دے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ منفرد اور چونکا دینے والی فوٹیج ۱۹۵۲ کے دوران ریکارڈ کی گئی تھی، جس میں چند انتہائی روشن گول گیندوں کو پراسرار انداز میں فضا میں تیرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دور میں اس قسم کے واقعات کو انتہائی رازداری کے ساتھ دیکھا جاتا تھا اور عام عوام تک ان کی رسائی نہ ہونے کے برابر تھی۔ امریکی بحریہ کے اس افسر نے اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے ان غیر معمولی فضائی مناظر کی اطلاع فوری طور پر فضائیہ کے متعلقہ تحقیقاتی شعبے کو فراہم کی تھی تاکہ اس امر کی تصدیق کی جا سکے کہ یہ مشکوک اور روشن اشیاء کیا تھیں اور کہاں سے آئی تھیں۔ حالیہ برسوں میں حکومت کی جانب سے یو ایف او سے متعلق خفیہ دستاویزات اور فائلوں کو مرحلہ وار عوامی سطح پر جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ اس سلسلے کا چھٹا بیچ ماہرین اور اس موضوع میں دلچسپی رکھنے والے محققین کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ان دستاویزات اور ویڈیوز کے سامنے آنے سے اس طویل بحث کو ایک بار پھر ہوا ملی ہے کہ آیا زمین کے علاوہ بھی کائنات میں کسی اور ذی ہوش حیات کا وجود موجود ہے یا یہ محض موسمی اور سائنسی مشاہداتی غلط فہمیاں ہیں۔ تاحال فضائیہ اور متعلقہ تحقیقاتی اداروں کی جانب سے ان روشن گیندوں یا نامعلوم اڑنے والی اشیاء کی حتمی نوعیت کے بارے میں کوئی حتمی اور قطعی سائنسی توجیہہ پیش نہیں کی جا سکی ہے۔ تاہم اس قسم کی ویڈیوز کے منظر عام پر آنے سے دنیا بھر میں تجسس کی لہر دوڑ گئی ہے اور عام لوگ بھی اب اس نوعیت کے سائنسی اور خلائی معماؤں میں گہری دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مزید فائلیں جاری ہونے سے اس طرح کے کئی اور راز بھی فاش ہو سکتے ہیں۔