LIVE
Loading Breaking News...

یو ای ایف اے اور کونكاكَف کا فیفا سے ایک کروڑ ڈالر فی کس ادائیگی کا مطالبہ

News Image
یورپی اور شمالی امریکی فٹ بال کنفیڈریشنز کے سربراہان نے فیفا کے صدر گیانی انفانتینو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تمام 211 رکن ممالک کو دو ارب دس کروڑ ڈالر کی ادائیگی کریں۔ اس مطالبے کا مقصد فیفا کے مالیاتی ریزرو اور فنڈز کی شفاف تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔
عالمی فٹ بال کی انتظامیہ میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ یورپی فٹ بال ایسوسی ایشنز کے اتحاد (یو ای ایف اے) اور شمالی، وسطی امریکہ اور کیریبین کے فٹ بال کنفیڈریشن (کونكاكَف) نے فیفا پر شدید دباؤ بڑھا دیا ہے۔ دونوں طاقتور تنظیموں کے سربراہان نے فیفا کے صدر گیانی انفانتینو کو باضابطہ طور پر خط لکھا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فیفا کے پاس موجود بھاری بھرکم مالیاتی ریزرو سے تمام 211 رکن ممالک کو فی کس ایک کروڑ ڈالر کی ادائیگی کی جائے۔ اس مطالبے کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر فٹ بال کے کھیل کی ترقی اور نچلی سطح پر مالی معاونت کو بہتر بنانا ہے۔ ذرائع کے مطابق، دونوں کنفیڈریشنز کا مؤقف ہے کہ فیفا کے پاس اس وقت دو ارب دس کروڑ ڈالر سے زائد کے فنڈز موجود ہیں جو کہ رکن ایسوسی ایشنز کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فٹ بال کے عالمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے یہ رقم انتہائی اہمیت کی حامل ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب بہت سے چھوٹے ممالک مالیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ یو ای ایف اے اور کونكاكَف کے رہنماؤں نے زور دیا ہے کہ فیفا کو اپنے مالیاتی معاملات میں زیادہ شفافیت لانی چاہیے اور ان وسائل کو فوری طور پر رکن ممالک کے حوالے کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے ہاں کھیل کی بہتری کے لیے منصوبے شروع کر سکیں۔ دوسری جانب، فیفا کی قیادت کی طرف سے اس مطالبے پر تاحال کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم فٹ بال کے حلقوں میں اسے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ فیفا کے مالیاتی ذخائر پر ماضی میں بھی مختلف تنازعات جنم لیتے رہے ہیں اور اب ان دونوں بڑے براعظمی اتحادوں کی جانب سے باضابطہ آواز اٹھانے کے بعد یہ معاملہ فیفا کانگریس کے آئندہ اجلاس کا اہم ترین ایجنڈا بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فیفا اس مطالبے کو تسلیم کرتا ہے تو اس سے عالمی فٹ بال کی سیاست اور مالیات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔