Technology
امریکی رائن میٹل کا امریکی فوج کے ساتھ خودکار لاجسٹکس کا معاہدہ
امریکی رائن میٹل کو امریکی فوج کی جانب سے خودکار لاجسٹکس کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے اٹھارہ ماہ کا کنٹریکٹ مل گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد فوج میں خودکار لوڈ ہینڈلنگ اور نقل و حمل کے نظام کو جدید بنانا ہے۔
امریکی دفاعی ادارے رائن میٹل (American Rheinmetall) کو امریکی فوج کی جانب سے ایک اہم معاہدہ مل گیا ہے جس کے تحت وہ فوج کے لیے خودکار اور ہائبرڈ پاور سے چلنے والی بغیر انسان کی زمینی گاڑیوں کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔ یہ اٹھارہ ماہ کا کنٹریکٹ امریکی فوج کی لاجسٹکس کو جدید خط استوار کرنے کے عزم کا حصہ ہے، جس سے جنگی اور امدادی کارروائیوں میں رسد کی ترسیل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔ اس معاہدے کے ذریعے فوج کے اندر نقل و حمل اور سامان کی لوڈنگ کے عمل کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا۔
اس منصوبے کو 'پروجیکٹ سستینمنٹ' کا نام دیا گیا ہے، جو فوج کی لاجسٹکس کو خودکار بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔ اس کے تحت ایسی جدید گاڑیاں تیار کی جا رہی ہیں جو خطرناک اور مشکل ترین علاقوں میں بھی بغیر کسی انسانی خطرے کے سامان اور رسد کی ترسیل کر سکیں گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے نفاذ سے نہ صرف انسانی جانوں کا خطرہ کم ہوگا بلکہ محاذ جنگ پر سپلائی لائنز کو زیادہ تیز اور محفوظ بنایا جا سکے گا۔
رائن میٹل اس منصوبے میں پرائم کنٹریکٹ کے طور پر کام کر رہی ہے اور اس نے اس مقصد کے لیے ہاربرنگر (Harbinger) کے ساتھ ایک نئی شراکت داری بھی شروع کی ہے۔ دونوں کمپنیاں مل کر فوج کی تکنیکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدید ترین ہائبرڈ اور خودکار حل تلاش کر رہی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس اٹھارہ ماہ کے دوران فوج کو ایسی قابل اعتماد گاڑیاں فراہم کی جائیں گی جو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں گی۔
امریکی فوج کی جانب سے لاجسٹکس کے شعبے میں اس قسم کی ڈیجیٹل اور خودکار سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ آنے والا وقت مکمل طور پر جدید ٹیکنالوجی پر منحصر ہوگا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس نوعیت کے منصوبے نہ صرف عسکری صلاحیتوں کو بڑھاتے ہیں بلکہ دفاعی سازوسامان کی تیاری میں نئی شراکت داریوں کے لیے بھی راہیں ہموار کرتے ہیں۔ رائن میٹل اور ہاربرنگر کی یہ شراکت داری دفاعی ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔