LIVE
Loading Breaking News...

يمن بحران: ایک لاکھ بارہ ہزار افراد بے گھر اور جبوتی کی طرف ہجرت

News Image
يمن میں شدید لڑائی کے نتیجے میں ایک لاکھ بارہ ہزار سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس تنازع کی وجہ سے لاکھوں افراد کو فوری انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے۔
يمن میں جاری پرتشدد لڑائی اور سنگین تنازع کے نتیجے میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں ایک لاکھ بارہ ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق ملک بھر میں جاری اس کشیدگی اور مسلح جھڑپوں کی وجہ سے عام شہریوں کی زندگیاں شدید خطرے میں پڑ گئی ہیں اور وہ محفوظ مقامات کی تلاش میں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس صورتحال سے بچنے کے لیے ہزاروں یمنی شہریوں نے سمندر عبور ਕਰ کے جبوتی کی طرف ہجرت شروع کر دی ہے، جہاں وہ عارضی پناہ گاہوں میں رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں یمن کے اندر تقریباً بائیس ملین افراد کو فوری اور ہنگامی انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ خوراک، صاف پانی، طبی سہولیات اور رہائش کی عدم دستیابی نے صورتحال کو مزید ابتر بنا دیا ہے، جس سے انسانی حقوق کی تنظیموں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ بین برادری اور عالمی امدادی تنظیمیں اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فنڈز جمع کرنے اور متاثرہ علاقوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ جبوتی اور دیگر ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے والے بے گھر افراد کی بروقت مدد کی جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فریقین نے فوری طور پر جنگ بندی پر اتفاق نہ کیا اور سیاسی مذاکرات کا آغاز نہ کیا تو یہ بحران خطے کے دوسرے ممالک تک پھیل سکتا ہے جس سے انسانی المیہ مزید گہرا ہو جائے گا۔