World
روس اور مغربی ممالک میں کشیدگی میں اضافہ، برطانوی سفیر طلب
روس نے فرانسیسی کمپنیوں کے اثاثے ضبط کرنے کے ساتھ یوکرین کی مسلسل عسکری حمایت پر برطانوی سفیر کو شدید احتجاج کے لیے طلب کر لیا ہے۔ کریملن کا کہنا ہے کہ یوکرین کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی دہشت گردی کی کھلی توثیق کے مترادف ہے۔
ماسکو: روس اور مغربی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں اس وقت مزید شدت آگئی جب روسی حکام نے فرانسیسی کمپنیوں کے اثاثے ضبط کرنے کا اعلان کیا اور یوکرین کی بھرپور عسکری حمایت پر برطانوی سفیر کو طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کروایا۔ عالمی سطح پر سفارتی تعلقات کے تناظر میں یہ ایک انتہائی اہم اور ڈرامائی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ کریملن کے اعلیٰ حکام کا ماننا ہے کہ نیٹو بالخصوص برطانیہ اور فرانس کی جانب سے یوکرین کو جدید اسلحے کی فراہمی خطے میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ ماسکو میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ مغربی ممالک کا یہ رویہ کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہے۔ روس کے مطابق، یوکرین کو مسلسل ہتھیار فراہم کرنے کا مقصد صرف جنگ کو طول دینا اور خطے میں تباہی پھیلانا ہے۔ کریملن نے سخت الفاظ میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ برطانوی حکومت کی جانب سے یوکرین کو دی جانے والی یہ حمایت دراصل دہشت گردی کی کھلی توثیق کے برابر ہے۔ دوسری جانب اس کشیدہ صورتحال کے بعد بین الاقوامی منڈیوں اور سفارتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی طرف سے اٹھائے جانے والے ان اقدامات کے نتیجے میں ماسکو اور مغربی دارالحکومتوں کے درمیان تعلقات مزید تلخ ہو سکتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق، فرانسیسی اثاثوں کی ضبطی اور برطانوی سفیر کی طلبی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ روس اب مغربی پابندیوں اور پالیسیوں کے خلاف انتہائی اور جارحانہ جوابی اقدامات اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا۔