World
ایران کی علاقائی پالیسی اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی
تہران کی جانب سے خطے میں اپنے اثر و رسوخ اور دباؤ کے حربوں کے استعمال نے خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی قربت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس صورتحال سے مشرق وسطیٰ میں امن اور سفارتی تعلقات کی بحالی کی کوششیں شدید دباؤ میں آ گئی ہیں۔
تہران کی جانب سے خطے کے مختلف حصوں میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے اور دباؤ کے حربے استعمال کرنے کے اقدامات نے خلیجی ریاستوں کے ساتھ اس کے حالیہ تعلقات کی بحالی کے عمل کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سفارتی محاذ پر جو قربتیں حال ہی میں پیدا ہوئی تھیں، وہ اب تہران کی علاقائی سرگرمیوں کی وجہ سے آزمائش کا شکار ہو رہی ہیں اور دونوں فریقین کے درمیان بداعظمی بڑھ رہی ہے۔ خلیجی ممالک اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ تہران کے جارحانہ اقدامات خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ سفارتی سطح پر ہونے والی بات چیت میں بھی یہ امر واضح ہو چکا ہے کہ خلیجی دارالحکومتوں میں تہران کے عزائم کو لے کر تحفظات پائے جاتے ہیں۔ دوسری جانب تہران کا مؤقف ہے کہ اس کی علاقائی پالیسیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور اس کا مقصد ملکی سلامتی کا تحفظ ہے۔ تاہم، خلیجی ریاستیں ان دلائل سے مطمئن نظر نہیں آتیں اور وہ خطے میں کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت کرنے کے حق میں نہیں ہیں جو ان کی اپنی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالے۔ اس نازک صورتحال کے پیش نظر آنے والے دنوں میں خلیجی ممالک اور تہران کے درمیان سفارتی تعلقات کا مستقبل غیر یقینی نظر آ رہا ہے، اور عالمی برادری بھی اس کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی بڑے تنازع کو روکا جا سکے۔