LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: بنیادی حقوق کی پامالی آئین شکنی قرار

News Image
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی آئین کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے خبردار کیا کہ ایسا کرنے والے سرکاری عہدیداروں کو اپنے حلف کی خلاف ورزی کا مرتکب سمجھا جائے گا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کے مجوزہ احتجاج اور دھرنوں کے حوالے سے ایک تفصیلی اور اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ کسی بھی ایسی سرگرمی سے گریز کیا جائے جو شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کا سبب بنے کیونکہ یہ براہِ راست آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ عدالت نے اس بات پر بھی شدید روشنی ڈالی ہے کہ آئین کی پاسداری کا حلف اٹھانے والے وہ سرکاری عہدیدار جو ایسے اقدامات یا پامالیوں کے ذمہ دار ہوں گے، انہیں اپنے منصب کے حلف کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ عدالت کے تین رکنی بنچ نے ایک شہری کی درخواست پر جاری کیا جس میں وفاقی دارالحکومت میں زندگی کے معمولات، ٹریفک اور کاروباری سرگرمیوں میں خلل اندیشی کے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس امر پر زور دیا کہ آئین کے تحت ہر سیاسی جماعت اور شہری کو پُراِمن احتجاج اور اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے، تاہم یہ حق مطلق نہیں ہے بلکہ اسے دیگر عام شہریوں کے بنیادی حقوق بشمول زندگی، آزادی، نقل و حرکت، تجارت، تعلیم اور علاج معالجے کے حقوق کے ساتھ توازن میں رکھنا ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق پُراِمن احتجاج کا حق اس انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا جس سے دوسرے شہریوں کے حقوق بری طرح متاثر ہوں۔ بنچ نے فیض آباد دھرنے اور ماضی کے دیگر احتجاجی مظاہروں کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے تجربات سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ روڈز بند کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے عوامی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے، جو کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول عمل ہے۔ فیصلے میں اس اہم نکتہ پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ صوبائی حکومتیں اور سرکاری وسائل کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال آئین و قانون کے منافی ہے۔ عدالت نے واضح ہدایت جاری کی کہ کوئی بھی سیاسی جماعت، سیاسی رہنما یا صوبائی حکومت اسلام آباد کے اندر یا اس کی طرف آنے والے راستوں، شاہراہوں، ٹول پلازوں اور سرکاری عمارتوں پر قبضہ نہیں کرے گی تاکہ نقل و حرکت، تجارت اور تعلیمی و طبی سہولیات تک رسائی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کو یہ بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے سرکاری وسائل، فنڈز یا مشینری کو کسی بھی دھرنے یا مارچ کے لیے استعمال ہونے سے سختی سے روکیں تاکہ قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے اور ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر رہے۔