Politics
ایمان مزاری اور ہادی علی کی گرفتاری: اسلام آباد بار کا عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی دوبارہ گرفتاری کے خلاف ہفتہ کے روز عدالتوں میں عدائتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ بار نے اس عمل کو بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن (آئی بی اے) نے انسانی حقوق کی معروف وکیل ایمان زینب مزاری حاضر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی فوری دوبارہ گرفتاری کے خلاف دارالحکومت میں ہفتہ کے روز عدالتی کارروائی کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی سزائیں معطل کرنے اور ضمانت پر رہائی کا حکم دینے کے باوجود جوڑے کو جیل کے باہر سے ایک اور مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو پیکا ایکٹ کے تحت مختلف الزامات میں سزائیں سنائی گئی تھیں، تاہم رہائی کے فوراً بعد اسلام آباد پولیس نے انہیں اڈیالہ جیل کے باہر سے ایک دوسرے مقدمے میں حراست میں لے لیا اور انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ یہ دوسرا مقدمہ رواں سال 22 مارچ کو کوہسار پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا جس میں مبینہ طور پر سڑکیں بلاک کرنے اور نعرے بازی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی گرفتاریاں عدالتی کارروائی کے تقدس کو پامال کرنے اور بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ بار کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ نامعلوم ایف آئی آرز میں افراد کو گرفتار کرنے کا رجحان ناقابل قبول ہے اور عدالتی احکامات کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کے خلاف درج مقدمات کی تمام تفصیلات کو عوامی سطح پر ظاہر کیا جائے۔ بار ایسوسی ایشن نے عزم ظاہر کیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ دوسری جانب، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بھی اس گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا کے ڈائریکٹر بابو رام پنت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ حکام تنقید کرنے والی آوازوں کے خلاف قانونی نظام کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جوڑے کو بغیر کسی تاخیر کے غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے تاکہ وہ اپنے معمولات اور انسانی حقوق کے فلاحی کاموں کو جاری رکھ سکیں۔