Pakistan
پاکستان میں افغان میڈیکل طالب علموں کی ملک بدری کے خلاف عدالتی فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے اس ہدایت نامے کو معطل کر دیا ہے جس کے تحت افغان طالب علموں کو ملک بدر کرنے کا کہا گیا تھا۔ عدالت نے اس معاملے پر متعلقہ حکام کو تفصیلی جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت دے دیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے اس متنازعہ ہدایت نامے کو معطل کر دیا ہے جس کے تحت افغان میڈیکل طالب علموں کو پاکستان سے واپس بھیجنے یا ان کی رجسٹریشن ختم کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔ اس عدالتی فیصلے سے ان سینکڑوں افغان طلباء اور بالخصوص طالبات کو عارضی راحت ملی ہے جو پاکستان کے مختلف میڈیکل کالجوں میں اپنی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی ایم ڈی سی کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایات کے بعد افغان طالب علموں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی اور انہوں نے اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔ طالب علموں کا کہنا تھا کہ ان کی تعلیم کا اہم مرحلہ جاری ہے اور ایسے وقت میں ملک بدری کے احکامات ان کے مستقبل کو تاریک کر دیں گے۔ دوسری جانب، عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران پی ایم ڈی سی کے وکلاء کو اس معاملے پر تفصیلی جواب داخل کرنے کے لیے مزید مہلت فراہم کی ہے۔
عدالتی احکامات کے بعد اب یہ مسئلہ مزید قانونی کارروائی اور بحث کے لیے زیر التواء رہے گا، جبکہ اس دوران افغان طلباء اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور تعلیمی حلقوں نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ عدالت میں اس معاملے کا ایسا حل نکلے گا جو طلباء کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنا سکے۔