Politics
دفتر خارجہ میں 12 ارب روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
دفتر خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق اور ایپوسٹائل کے نظام میں مبینہ طور پر بارہ ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ اس معاملے پر ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی ہدایت پر ایک اعلیٰ سطحی انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔
اسلام آباد: دفتر خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق اور ایپوسٹائل کے نظام میں مبینہ طور پر بارہ ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آڈیٹ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مبینہ مالی گھپلے اور بے قاعدگیوں کا انکشاف ہونے کے بعد انتظامی سطح پر سخت فیصلے کیے جا رہے ہیں تاکہ معاملے کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔
اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے فوری طور پر وزارتِ خارجہ کے اندر دستاویزات کی تصدیق کے پورے نظام اور ایپوسٹائل کے طریقہ کار کی جامع تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا نظام میں کسی قسم کی خامی یا بدعتی عمل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا ہے یا نہیں۔
دوسری جانب وزارتِ خارجہ نے بعض میڈیا اداروں میں آنے والی ان خبروں اور رپورٹس کی تردید بھی کی ہے جن میں مبینہ طور پر چالیس ملین ڈالر سے زائد کی بے ضابطگیوں کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی مبالغہ آرائی پر مبنی اطلاعات حقائق کے منافی ہیں، تاہم شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے غیر جانبدارانہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کے ابہام کو دور کیا جا سکے۔