World
امریکہ ایران جنگ اور مشرق وسطیٰ بحران کی تازہ ترین صورتحال
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں عالمی رہنما نیویارک میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام اہم ملاقاتوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خلیجی رہنماؤں اور دیگر عالمی شخصیات سے ملاقاتیں اس بحران کے مستقبل کا تعین کرنے میں اہم ثابت ہوں گی۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امریکہ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی نے عالمی سطح پر انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔ اسی پس منظر میں نیویارک میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں دنیا بھر کی توجہ اس تنازعے پر مرکوز ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس بار اقوام متحدہ کے فورم پر عالمی رہنماؤں کی جانب سے سخت سوالات اور شکوک و شبہات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جہاں یورپی یونین اور دیگر ممالک کے نمائندے پالیسیوں پر کھل کر بات چیت کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر سرگرمیوں میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ آئندہ ہفتے خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے خصوصی ملاقاتیں کریں گے جن کا بنیادی ایجنڈا ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں امن و امان کی بحالی ہوگا۔ ان مذاکرات کا مقصد اس بات کا اندازہ لگانا ہے کہ اس تنازعے کو مزید بڑھنے سے کیسے روکا جائے اور علاقائی استحکام کے لیے کون سے مشترکہ اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے اس سالانہ اجتماع میں مشرق وسطیٰ کا بحران سب سے اہم موضوع بن چکا ہے۔ یورپی رہنماؤں اور دیگر عالمی طاقتوں کے مابین اس معاملے پر سخت لفظی جنگ اور گرما گرم بحث متوقع ہے کیونکہ کئی ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اس بات پر ٹکی ہوئی ہیں کہ آیا یہ سفارتی کوششیں خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا پھر بحران مزید گہرا ہو جاتا ہے۔