LIVE
Loading Breaking News...

جے پی مورگن: ٹرمپ ایران کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں کی پیشگوئی ناممکن

News Image
بین الاقوامی مالیاتی ادارے جے پی مورگن کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے تیل کی قیمتوں کی درست پیشگوئی کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ بینک کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ کون سے معاشی ریڈ لائنز عبور کیے جائیں گے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں کے بڑے ادارے جے پی مورگن نے خبردار کیا ہے کہ انہیں موجودہ سیاسی اور معاشی ماحول میں تیل کی قیمتوں کے حوالے سے حتمی پیشگوئی کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ ادارے کے ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور نومنتخب یا موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے توانائی کے شعبے میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ بینک کے تجزیہ کاروں کے مطابق حالات اتنے پیچیدہ ہو چکے ہیں کہ آئندہ چند ماہ میں خام تیل کی مارکیٹ کس رخ پر جائے گی، اس کے بارے میں کچھ بھی قطعی طور پر کہنا فی الحال ممکن نہیں۔ بینک کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہمارے پاس کچھ واضح معاشی اشارے ہوتے تھے جن کی بنیاد پر تخمینے لگائے جاتے تھے، مگر اب صورتحال یکسر مختلف ہے۔ رپورٹ کے مطابق جے پی مورگن نے پہلے یہ فرض کر لیا تھا کہ کچھ مخصوص معاشی ریڈ لائنز موجود ہوں گی جنہیں امریکہ عبور کرنے سے گریز کرے گا، جن میں تیل کی قیمت سو ڈالر فی بیرل تک پہنچنا بھی شامل ہے۔ تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آرہے ہیں کیونکہ جیو پولیٹیکل کشیدگی اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں روایتی معاشی ماڈلز کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے مابین محاذ آرائی نے مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، جس سے عالمی منڈی میں سرمایہ کار بھی شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوتی ہے اور خلیجی خطے میں تجارتی گزرگاہیں متاثر ہوتی ہیں، تو تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی اور اس کے جواب میں ایرانی ردعمل نے عالمی توانائی کے محاذ پر ایک خطرناک خلا پیدا کر دیا ہے۔ جے پی مورگن نے اپنے سرمایہ کاروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ مارکیٹ کے غیر یقینی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی اپنے فیصلے کریں کیونکہ آنے والے دنوں میں قیمتوں کا تعین روایتی طلب اور رسد کے اصولوں کے بجائے سیاسی فیصلوں کی بنیاد پر ہوگا۔