World
پینٹاگون کی ٹیسٹوسٹیرون پالیسی بحال، طبی ماہرین کے خدشات برقرار
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تیس سال سے زائد عمر کے فوجی اہلکاروں کے لیے ٹیسٹوسٹیرون ٹیسٹنگ کی پالیسی دوبارہ نافذ کر دی ہے۔ طبی ماہرین کی جانب سے اس پالیسی کے ممکنہ طبی خطرات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
واشنگٹن (نیکصورا نیوز) امریکی محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون نے طبی ماہرین کی طرف سے شدید تحفظات اور تنقید کے باوجود ایک متنازع پالیسی کو دوبارہ بحال کر دیا ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت اب امریکی فوج میں خدمات انجام دینے والے تیس سال سے زائد عمر کے تمام اہلکاروں کے لیے ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کی جانچ لازمی قرار دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد جنگی تیاریوں کو بہتر بنانا اور فوجیوں کی مجموعی جسمانی فٹنس کو یقینی بنانا ہے۔
دوسری جانب، طبی اور سائنسی حلقوں نے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے لازمی طبی ٹیسٹ اور ان کے نتائج فوجیوں کے کیریئر پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بعض ہارمونل اور طبی خطرات بھی ایسے ہیں جنہیں اس پالیسی میں نظر انداز کیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے پہلے کہ اس طرح کے اقدامات کو بڑے پیمانے پر نافذ کیا جائے، اس کے طویل مدتی طبی اثرات کا مکمل جائزہ لیا جانا ضروری تھا۔
پینٹاگون کے ترجمان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ فیصلہ قومی سلامتی اور امریکی فوجیوں کیOperational readiness کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ محکمہ دفاع کا مؤقف ہے کہ جدید میدانِ جنگ میں فوجیوں کو بہترین جسمانی حالت میں ہونا چاہیے، اور اس پالیسی سے متعلقہ اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔ اس سے قبل اس پالیسی کو کچھ تکنیکی اور انتظامی وجوہات کی بنا پر عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا، لیکن اب اسے نئے عزم کے ساتھ دوبارہ لاگو کیا جا رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں اس پالیسی کے نفاذ کے بعد فوجی یونٹس میں اس کے اثرات کا مشاہدہ کیا جائے گا۔ دریں اثنا، انسانی حقوق اور فوجیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کسی بھی اہلکار کے ساتھ طبی بنیادوں پر ناانصافی نہ ہو۔ پینٹاگون اس پالیسی کے تحت آنے والے نتائج کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ فوجی تیاری اور فوجیوں کی فلاح و بہبود کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکے۔