LIVE
Loading Breaking News...

روسی ڈرونز کی مغربی حکام کو دھمکی اور یوکرین جنگ کی تازہ ترین صورتحال

News Image
روس نے یوکرین کی پولینڈ اور مالڈووا کے ساتھ سرحدوں پر حملے تیز کر دیے ہیں جبکہ مشرقی محاذ پر اس کے حملے سست روی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان کشیدہ حالات میں روسی ڈرونز کی موجودگی نے کیف کے دورے پر آنے والے مغربی حکام کے لیے شدید سیکیورٹی خدات پیدا کر دیے ہیں۔
یوکرین میں جاری کشیدگی کے دوران روسی فوج کی جانب سے اہم سرحدی گزرگاہوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق روس نے یوکرین کی پولینڈ اور مالڈووا کے ساتھ واقع سرحدوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دوسری طرف مشرقی محاذ پر روسی فوج کی پیش قدمی اور جارحانہ کارروائیاں کافی حد تک سست روی کا شکار ہو چکی ہیں اور جنگی کوششیں بظاہر تعطل کا شکار نظر آتی ہیں۔ مشرقی محاذ پر پیش قدمی رکنے کے باوجود روسی فورسز فضائی کارروائیوں اور ڈرونز کے ذریعے یوکرین کے اندر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں روسی ڈرونز کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو نہ صرف فوجی تنصیبات بلکہ کیف کا دورہ کرنے والے یا دارالحکومت کی طرف سفر کرنے والے مغربی حکام کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ ان سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے بین الاقوامی رہنماؤں اور سفارت کاروں کی نقل و حرکت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مغربی ممالک یوکرین کی حمایت میں مسلسل مصروف ہیں اور ان کے اعلیٰ عہدیدار یوکرین کی قیادت سے اظہار یکجہتی کے لیے اکثر کیف کا دورہ کرتے ہیں۔ تاہم، روسی ڈرونز کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور فضائی خطرات نے ان دوروں کو انتہائی خطرناک بنا دیا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ روس اس قسم کے اقدامات کے ذریعے مغربی ممالک کو دباؤ میں لانا چاہتا ہے تاکہ وہ یوکرین کی فوجی و مالی امداد سے باز رہیں۔ موجودہ جنگی صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اگرچہ روایتی زمینی محاذوں پر جنگ کچھ حد تک سست پڑ گئی ہے، لیکن فضائی اور ڈرون جنگ اب بھی تنازع کا ایک انتہائی خطرناک اور غیر متوقع پہلو بنی ہوئی ہے۔ یوکرین اور اس کے مغربی اتحادی اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں تاکہ کیف کا رخ کرنے والے اہم شخصیات کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور روسی جارحیت کا موثر جواب دیا جا سکے۔