World
ہسپانوی انکلیو سیوُٹا میں پولیس کا تارکینِ وطن کے خلاف آپریشن
ہسپانوی انکلیو سیوُٹا کے ساحلوں پر موجود غیر قانونی تارکینِ وطن کو پولیس نے ہٹا دیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ مراکش سے آنے والے ہزاروں افراد میں سے ایک بڑی تعداد اب بھی اس علاقے میں موجود ہے۔
ہسپانوی انکلیو سیوُٹا کے ساحلوں پر موجود تارکینِ وطن کے خلاف ہسپانوی پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ساحلوں کو خالی کرا لیا ہے۔ یہ کارروائی انتظامیہ کی جانب سے علاقے میں نظم و ضبط بحال کرنے اور پناہ گزینوں کے انصرام کے لیے کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اس انکلیو میں سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ جولائی کے دوران لگ بھگ بہتر ہزار (72,000) کے قریب تارکینِ وطن نے مراکش کے ساتھ واقع سرحدی باڑ کو زبردستی عبور کیا تھا اور ہسپانوی حدود میں داخل ہوگئے تھے۔ ان افراد میں سے اکثریت نے ساحلوں اور کھلے مقامات پر پناہ لے رکھی تھی جس کی وجہ سے مقامی انتظامیہ کو شدید انتظامی اور سماجی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
حالیہ پولیس کارروائی کے بعد کم از کم دس ہزار (10,000) ایسے تارکینِ وطن اب بھی اس ہسپانوی انکلیو میں موجود ہیں جو اس بڑے انفلکس کا حصہ تھے۔ ہسپانوی حکومت اور مقامی انتظامیہ ان تارکینِ وطن کی مستقل آبادکاری، قانونی حیثیت اور ان کے مستقبل کے حوالے سے مختلف بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر لائحہ عمل تیار کر رہی ہے۔
اس صورتحال نے ایک بار پھر یورپی یونین اور شمالی افریقہ کے درمیان ہجرت کے حساس مسئلے کو اجاگر کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مقامی حکام دونوں ہی اس بحران کے پائیدار حل کے متلاشی ہیں تاکہ تارکینِ وطن کی انسانی بنیادوں پر دیکھ بھال بھی یقینی بنائی جا سکے اور سرحدی قوانین کا احترام بھی برقرار رہے。